حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 124
مارشاہ صاحب باب چہارم۔۔۔حضرت ام طاہر کے خاندان کوناگوار گزرا ہوگا پھر جولڑ کی اس طرح رہ جائے اس کے متعلق برے خیالات ظاہر کئے جاتے ہیں۔پھر غیرت کا بھی تقاضا ہوتا ہے کہ جن کا رشتہ ہوتا ہے وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں ہی ہو۔ان باتوں کو مد نظر رکھ کر حضور نے گھر میں ذکر کیا کہ اس لڑکی کا رشتہ ہمارے ہی گھر میں ہو تو اچھا ہے۔چنانچہ یہ بات روایتہ یہاں مشہور ہے کوئی اب نہیں بنائی گئی۔میں بوڑھا ہوں، میں چلا جاؤں گا مگر میرا ایمان ہے کہ جس طرح سے پہلے سیدہ سے خادم دین پیدا ہوئے اس طرح اس سے بھی خادم دین ہی پیدا ہوں گے۔یہ مجھے یقین ہے جولوگ زندہ ہوں گے وہ دیکھیں گے۔* الفضل قادیان ۱۴ فروری ۱۹۲۱ء ) خدمات سلسلہ احمدیه حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۱۷ مارچ ۱۹۲۵ کودار مسیح میں مدرستہ الخواتین جاری کیا جس میں حضرت سیدہ ام ناصر صاحب اور حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ ( اللہ آ راضی ہو ) بھی شریک ہوئیں۔اس مدرسہ کے اجراء سے مقصود یہ تھا کہ اس میں تربیت دے کر ایسی خواتین تیار کی جائیں جو خواتین اور بچیوں کی تعلیم و تربیت کی نگرانی کر سکیں۔حضور نے افتتاحی تقریر میں فرمایا کہ:- ابلیسیت نہیں نکل سکتی جب تک علم کی طرف خاص توجہ نہ کی جائے اور وہ اسی وقت نکلے گی جب عورتوں کی تعلیم کی طرف پوری پوری توجہ رہے گی“۔اس مدرسہ میں دینیات، عربی، انگریزی ، جغرافیہ اور تاریخ کی تعلیم کا انتظام تھا۔حضرت مولوی شیر علی صاحب اس کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔دیگر اساتذہ حضرت صوفی غلام محمد صاحب بی اے ( سابق مجاہد ماریشس ) حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی اے ) سابق مہر سنگھ ) اور حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور بعض اور بزرگان تھے۔اس مدرسہ کی مزید اہمیت اس امر سے ظاہر ہے کہ حضرت مصلح موعود( اللہ * خدا تعالیٰ نے حضرت سیدہ مریم النساء بیگم صاحبہ ( اللہ آپ سے راضی ہو ) کے بطن مبارک نے ہمارے پیارے امام سیدنا حضرت خلیفہ ایسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پیدا فرمائے۔١٢٦