حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 123
ارشاہ صاحب باب چہارم حضرت ام طاہر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سادات میں نکاح کرنے کو اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھا ہے۔حضرت رسول کریم ﷺ کی اس عظمت وشان کی وجہ سے جو آپ کے دل میں تھی۔جس بات کو حضور نے اپنے لئے فضل سمجھا ہے میرا ایمان ہے کہ وہ آپ کے صاحبزادوں میں سے کسی ایک کو یا سب کو فردا فردا ملے گی۔اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے اس بات کا یقین تھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی (اللہ آپ سے راضی ہو ) کا نکاح سادات میں ہوگا۔اس وقت یقین تھا جب اس نکاح کا پتہ ہی نہیں تھا۔کئی سال ہوئے میں نے اپنے گھر میں بیان کیا تھا کہ اسی جگہ جہاں آج نکاح ہو رہا ہے نکاح ہوگا۔۔اس کے بعد میں یہ بتا تا ہوں کہ اس نکاح کی تحریک کیونکر ہوئی۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد کے فوت ہونے کے بعد حضرت مسیح موعود نے یہ خواہش ظاہر کی اور طبعی طور پر ہونی چاہیے تھی کیونکہ خدا تعالیٰ نے انبیاء کی طبیعت نہایت ہی شکر گزار بنائی ہوتی ہے میں نے خود بلا کسی واسطہ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا۔آپ نے فرمایا مجھے یاد نہیں کسی نے ایک پیسہ بھی مجھے دیا ہو اور میں نے اس کے لئے دعانہ کی ہو۔کیا ہی شان ہے وہ جس کے متعلق خدا کہتا ہے کہ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِى ( الهام حضرت مسیح موعود ) اس کو کوئی ایک پیسہ بھی دیتا ہے تو وہ شکر گزاری کے طور پر اس کے لئے دعا کرتا ہے۔بات اصل میں یہ ہے کہ نبی کبھی اپنے اوپر کسی کا احسان نہیں رہنے دیتے بلکہ دوسروں پر اپنا احسان رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود (علیہ السلام) نے ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کی اس بات کو نہایت احسان کی نظر سے دیکھا تھا اور چونکہ یہ لوگ کبھی پسند نہیں کرتے کہ ان کے ساتھ کوئی احسان کا فعل کرے اور وہ اس کا بدلہ نہ دیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود نے یہ خیال کر کے کہ لڑکے کا فوت ہو جاناڈاکٹر صاحب ۱۲۵