حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 122 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 122

ناہ صاحب باب چہارم۔۔۔حضرت ام طاہر ہمیں اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ان کا یہ جواب سن کر مریم بیگم مرحومہ کی والدہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو ہمیشہ بڑھاتا چلا جائے رو پڑیں۔اور بے اختیار ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اس پر ڈاکٹر صاحب مرحوم نے ان سے پوچھا کہ کیا ہوا۔کیا تم کو یہ تعلق پسند نہیں۔انہوں نے کہا مجھے پسند ہے۔بات یہ ہے کہ جب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نکاح کا ارشاد فرمایا تھا۔میرا دل دھڑک رہا تھا۔اور میں ڈرتی تھی کہ کہیں آپ کا ایمان ضائع نہ ہو جائے۔اور اب آپ کا جواب سن کر میں خوشی سے اپنے آنسو روک نہیں سکی۔چنانچہ یہ شادی ہوگئی اور کچھ دنوں کے بعد وہ لڑکی بھی بیوہ ہوگئی۔اللہ تعالیٰ کسی کے اخلاص کو ضائع نہیں کرتا۔آخر وہی لڑکی پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان میں آئی۔اور خلیفہ وقت سے بیاہی گئی۔اور با وجود شدید بیمار رہنے کے اللہ تعالیٰ نے اسے اس وقت تک مرنے نہیں دیا جب تک کہ اس نے اپنی مشیت کے ماتحت اس پیشگوئی کے میرے وجود پر پورا ہونے کا انکشاف نہ فرمایا جو دین حق ) اور احمد بیت کی ترقی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی تھی اور اسے ان خواتین مبارکہ میں شامل نہ کر لیا۔جو ازل سے مصلح موعود سے منسوب ہو کر حضرت مسیح موعود کا جز وکہلانے والی تھیں۔میں سمجھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ایمان کی جزا تھی جو مریم بیگم مرحومہ کی والدہ نے اس وقت ظاہر کیا تھا۔الفضل قادیان یکم اگست ۱۹۴۴ ، صفحه ۲۱) حضرت مسیح موعود کے محاسن اخلاق ( بیت ) مبارک قادیان میں بعد نماز فجر ے فروری ۱۹۲۱ء کوحضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثانی (اللہ آپ سے راضی ہو ) اور حضرت سیدہ مریم النساء بیگم صاحبہ (اللہ آپ سے راضی ہو ) کے نکاح کے موقعہ پر حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) نے نہایت لطیف اور دلکش انداز میں خطبہ دیا۔جس میں آپ نے فرمایا:- ۱۲۴