حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 107
مارشاہ صاحب کہ اب انشاء اللہ یہ بغیر راہنمائی کے خود بخود ترقی کرلے گا۔۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔میں میٹرک میں بہت اچھے نمبروں سے کامیاب ہوا اور شاہ صاحب نے مجھے اعلیٰ سرٹیفکیٹ دیا۔آپ نے مجھے بہت سی دعاؤں سے نوازان کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا اور مجھے بطور واقف زندگی خدمت سلسلہ کی توفیق مل رہی ہے۔شاہ صاحب قاضی بھی تھے۔ایک شخص تحریر نہ ہونے کی وجہ سے مدعی کی رقم دینے سے انکاری تھا۔آپ کا تاثر یہ تھا کہ دعویٰ صحیح ہے۔آپ نے مدعی علیہ سے بڑے دلنشیں انداز سے کہا کہ ضروری نہیں کہ آپ کا قول اور فعل ایک جیسا ہو۔آپ بڑی آسانی سے کہہ دیں کہ دعویٰ درست نہیں۔وہ صاحب اتنے شرمندہ ہوئے۔کہنے لگے شاہ صاحب! ان کی بات درست ہے۔اور میں رقم دینے کو تیار ہوں۔اس طرح آپ نے احسن طریق سے چند لمحوں میں معاملہ نمٹا دیا۔آپ نے قادیان میں تفریح کے وقت میں اضافہ کر دیا تھا۔اور بورڈنگ ہاؤس سے آلو کی بھجیا یا چنے وغیرہ پکوا کر ہر طالب علم کو مہیا کروائے۔اس کی بہت کم قیمت کا بھی جو طالب علم متحمل نہ تھا اسے مفت دلوایا۔بیت الخلاء کو بہترین قسم کی فلش لیٹرین میں تبدیل کروایا۔اور ایک ایک کلاس کو بلوا کر ان کے استعمال کا طریق سمجھایا گیا۔آپ نے اچھے طلباء کی خصوصی حوصلہ افزائی اور سپیشل کلاسز کے اجراء اور امتحانات وظائف کی تیاری اور کتب مہیا کرنے کا اور لائبریری اور لیبارٹری کو مکمل کرنے کا انتظام کیا۔جب بھی سکول میں کوئی تقریب منعقد ہوتی تو آپ کی پرکشش اور پراثر شخصیت کی وجہ سے دیگر مدارس کے ہیڈ ماسٹرز اساتذہ اور محکمہ تعلیم کے عہدیداران اور حکومت کے کارندے اور غیر از جماعت اعلیٰ طبقہ کے احباب شمولیت کے لئے تشریف لاتے اور بہت اچھا اثر لے کر جاتے۔آپ کے شاگردوں ہی سے ایک کثیر تعداد نے آپ کی رہنمائی اور دعاؤں سے خدمت سلسلہ کی توفیق پائی اور پارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ سے بہت خوش ہو۔آپ کی طبیعت میں خوش خلقی اور نے نفسی تھی۔آپ نہایت نیک اور دعا گو تھے۔روزنامه الفضل ربوه ۱۳ جون ۱۹۸۹ ، صفحه ۴، ۵) 1۔9