حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 106 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 106

شاہ صاحب شاگردوں کی حوصلہ افزائی۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔آپ ہمیشہ شاگردوں کی حوصلہ افزائی کرتے۔نہایت احسن طریق سے سمجھاتے اور ہر ممکن رہنمائی اور امداد فرماتے تھے۔حوصلہ افزائی کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک روز سحری کے وقت میں ریلوے سٹیشن ربوہ پہنچا تو شاہ صاحب مع مسز شاہ اور بیٹے سید مشہود احمد کے ٹکٹ والی کھڑکی کے پاس کھڑے تھے۔فوراً مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ ہمارا Mathematician آ گیا اور فرمایا کہ ڈھائی روپے فی ٹکٹ کے حساب سے اڑھائی ٹکٹ کے کتنے پیسے بنے۔میں نے جھٹ کہا سوا چھ روپے فرمانے لگے۔تم کیسے اتنی جلدی حساب نکال لیتے ہو۔میں نے عرض کیا کہ بہت آسان ہے۔دوٹکٹ کے پانچ روپے بنے پھر نصف ٹکٹ کا سوار و پیر۔کیل سواچھ ہوئے۔اس پر آپ نے مسز شاہ سے کہا۔دیکھا ہماراMathematician کتنی جلدی حساب نکال لیتا ہے۔حوصلہ افزائی اور راہنمائی کا ایک واقعہ یہ ہے کہ سائنس گروپ کے طلباء بالعموم انگریزی میں اتنے اچھے نہیں ہوتے جتنے وہ سائنس اور حساب میں ہوتے ہیں۔میں اچھے طلباء میں شمار ہوتا تھا۔ایک روز ہمارے انگریزی کے ٹیچر ساری کلاس سے خفا تھے اور انہوں نے کہا کہ تم اس سال بھی لگے ہو تو میٹرک نہیں کر سکتے۔شام کو حضرت شاہ صاحب سے ملاقات ہوتی تھی۔میں نے افسردگی سے اس وقت یہ بات سنائی تو آپ نے بڑے پیار سے مجھے کہا نہیں نہیں۔تم تو بہت ہی اچھے طالب علم ہو اور نہ صرف تم اسی سال کامیاب ہو گے بلکہ انشاء اللہ اعلیٰ نمبروں پر پاس ہو گے اور آپ نے مجھے بتیس صفحات کا ایک پمفلٹ دیا کہ اسے پڑھ لو۔پڑھ لیا تو فرمایا کہ اپنے الفاظ میں یہ مضمون لکھوں جو میں نے چند منٹ میں لکھ لیا۔آپ نے اس پر بہت خوشی کا اظہار کیا کہ تم نے کتنا اچھا مضمون لکھا ہے۔تم بہت اچھا لکھتے ہو اور مسز شاہ کو بھی دکھایا اور کہا کہ دیکھو ہمارے Mathematician نے کیسا اچھا مضمون لکھا ہے۔پھر ہمارے استاد پروفیسر محمد ابراہیم صاحب ناصر کو رقعہ لکھا جو ہمیں حساب پڑھاتے تھے اور انگریزی اور فزکس میں بھی لائق تھے اور بہت اچھے استاد تھے کہ روزانہ مجھے ایک مضمون، چٹھی یا ترجمہ کا اقتباس دیا کریں جو یہ دوسرے روز دکھایا کرے۔سوانہوں نے چند روز مجھے کام دیا اور اس کی اصلاح کی۔اور پھر شاہ صاحب کو رپورٹ دی ۱۰۸