حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 103
رشاہ صاحب۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔۔۔نہ ہو سکا۔احمدی بچوں کا اول، سوم، ششم اور ہفتم آنا ایک غیر معمولی کارنامہ ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ہمارے بچے پروگرام کے مطابق تعلیم وتربیت حاصل کریں تو علیمی میدان میں بازی لے سکتے ہیں۔ڈویژنل انسپکٹر آف سکولز اس سکول کے بلند معیار علمی کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے ریمارکس دیئے کہ یہ سکول ایک مثالی سکول ہے جس میں بچوں کی صحیح اور (دینی) رنگ میں تربیت کی جاتی ہے اور اس کے اساتذہ بھی فرض شناس ہیں۔اس عہد میں سکول نے اخلاقی اور دینی اعتبار سے بھی بہت ترقی کی۔فوجی ٹریننگ اور طبی امداد کے انتظامات ہوئے۔ادبی اور علمی مجالس قائم ہوئیں۔بزرگان سلسلہ کی تقاریر کے علاوہ بیرونی ممالک سے آنے اور جانے والے مجاہدین کے اعزاز میں تقاریب منعقد کرنے سے احمدیت کے بارے میں غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا اور نونہالان قوم کو ایک پاکیزہ اور خالص (دینی) ماحول میسر آیا۔تاثرات احباب محترم میاں محمد ابراہیم صاحب جمونی بی اے ( مرحوم و مغفور ) نے جو بعد میں اس اسکول کے ہیڈ ماسٹر ہوئے حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کے سات سالہ کامیاب دور کے بارے میں لکھا کہ:- حضرت شاہ صاحب کا تقر ر اس لئے کیا گیا تھا کہ اس وقت مرکزی سکول کی وہ حالت نہ تھی جو اس کا طرہ امتیاز ہونا چاہیے تھی۔مقصود یہ تھا کہ آپ اس ادارہ کی گرتی حالت کو سنبھالیں اساتذہ کو باہم مربوط بنائیں اور طلباء واساتذہ کو سلسلہ سے وابستہ رکھیں۔اور انہیں قوم کے لئے ایک مفید وجود اور اغیار کی نظروں میں باوقار بنائیں۔آپ کو محیر العقول کامیابی حاصل ہوئی۔آپ نے اس مختصر عرصہ میں اس سکول کو اوج کمال تک پہنچایا اور وہ پنجاب کے چوٹی کے سکولوں میں شمار ہوا۔پچانوے چھیانوے فیصد نتیجہ نکلا۔بفضلہ تعالیٰ یہ آپ کی نگرانی اور خدا داد قابلیت اور دعاؤں کا نتیجہ تھا۔میرے اس سکول میں مدرسی کے تمہیں سال میں افسران تعلیم نے اس سکول ۱۰۵