حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 102 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 102

شاہ صاحب باب سوم۔۔۔۔۔۔اولاد شامل تھے۔اس کام کا مرکز حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ( اللہ آپ سے راضی ہو ) کا مکان تھا۔۱۹۴۸ء میں جب ربوہ آباد ہوا تو حضرت محمود اللہ شاہ صاحب ٹی آئی سکول کے طلباء کی مدد سے ربوہ کی آباد کاری میں ہر ممکن امداد فراہم کرتے۔ر پورٹس سالانه صد را مجمن احمد یہ ۱۹۴۷ء تا ۱۹۵۱ روز میر پورٹ ہائی سکول ) ٹی آئی ہائی سکول میں غیر معمولی کارنامے مشرقی افریقہ سے قادیان پہنچنے کے چند روز بعد اکتو بر۱۹۴ء میں آپ کوئی آئی ہائی سکول قادیان کا ہیڈ ماسٹر حضرت مصلح موعود (اللہ آپ سے راضی ہو ) کی طرف سے مقرر کر دیا گیا۔آپ نے حسن تدبیر، معاملہ نہی اور محنت و استقلال سے جلد سکول کی ہر لحاظ سے کایا پلٹ دی۔ان اصلاحات میں خاص طور پر جن باتوں کی طرف توجہ دی گئی۔ان میں سے بعض یہ ہیں۔اردو زبان میں گفتگو کرنا اساتذہ اور طلباء کے لئے لازمی قرار دیا گیا۔سیکنڈری حصہ کے طلباء کو چار ایوانوں (حمزہ ہاؤس، طارق ہاؤس، خالد ہاؤس اور اسامہ ہاؤس) میں تقسیم کیا گیا۔باری باری ایک ہفتہ کے لئے ہر ایوان سکول کی صفائی کا نگران ہوتا۔اسی طرح انٹر ہاؤس ٹورنا منٹ بھی شروع کئے گئے۔حضرت مصلح موعود ( اللہ آپ سے راضی ہو ) کی نئی جاری کردہ تحریکات میں سے تراجم قرآن فنڈ اور وقف زندگی کو مقبول بنانے کی بہت جدوجہد کی گئی۔نتیجتاً اس مالی جہاد کے لئے ایک معقول رقم جمع ہوئی اور بہت سے طلباء نے اپنی زندگیاں خدمت ( دین حق ) کے لئے پیش کیں۔تقسیم برصغیر کی وجہ سے اس سکول کو بھی پاکستان میں از سرنو بمقام چنیوٹ (ضلع جھنگ) جاری کرنا پڑا۔حضرت مصلح موعود ( اللہ آپ سے راضی ہو ) اور سید محمود اللہ شاہ صاحب اور اساتذہ کی جدوجہد کے نتیجہ میں ۱۹۵۳ء میں میٹرک کے امتحان میں طلباء نے اول سوم ششم اور ہفتم پوزیشن حاصل کی۔اس شاندار نتیجہ پر حضرت مصلح موعود نے ان الفاظ میں اظہار خوشنودی فرمایا:- انگریزی تعلیمی اداروں میں سے ٹی آئی ہائی سکول ربوہ پہلا ادارہ ہے جس نے ایک ایسا ریکارڈ قائم کر دیا ہے جو گذشتہ پچاس سال سے جب سے سکول قائم ہوا ہے قائم ۱۰۴