حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 104 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 104

رشاہ صاحب سوم۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔کے متعلق ایسی تعریفی رائے کا اظہار نہیں کیا جو آپ کے عہد میں تقریراً اور تحریراً کیا۔ہجرت کے بعد لاہور سے ہوتے ہوئے ہم چنیوٹ آئے تو اساتذہ اور طلباء کی تعداد مجموعۂ صرف چونتیس تھی۔پھر کوشش سے اکاون ہوئی اور سکول شروع ہوا۔آپ نے خندہ پیشانی سے بے سروسامانی اور مشکلات کا مقابلہ کیا۔اور رہبری کی کہ اس سکول نے چنیوٹ کے پرانے مدارس سے زیادہ ناموری حاصل کر لی۔اور آپ کے حسن اخلاق سے متاثر ہوکر غیر احمدی افسران و معززین نے اپنے بچوں کو ہمارے سکول میں داخل کرادیا اور یہ سلسلہ بعد تک جاری رہا۔وہ فرشتہ ہیں فرشتہ“ اپنے اور دوسرے آپ کے مداح تھے۔اور نہایت محبت سے آپ سے ملتے تھے۔سلسلہ کے ایک کلرک کسی کام سے چنیوٹ تحصیل گئے۔شاہ صاحب کا ذکر آیا تو سرکاری خزانچی صاحب نے اپنے ایک غیر احمدی ساتھی سے کہا کہ شاہ صاحب کی کیا بات ہے۔ان صاحب نے پوچھا کون سے شاہ صاحب خزانچی صاحب نے تعجب سے کہا۔سید محمود اللہ شاہ صاحب۔آپ ان کو بھی نہیں جانتے ؟ وہ فرشتہ ہیں فرشتہ آپ بہت خوش گفتار اور جہاندیدہ تھے۔ہر مجلس پر چھا جاتے۔محکمہ تعلیم کے افسران جن سے لوگ مرعوب ہوتے ہیں وہ مجلس میں خود شاہ صاحب کی طرف متوجہ ہوتے اور ان سے باتیں سنے پر مجبور ہوتے۔متحدہ پنجاب میں لدھیانہ میں صوبہ کے ہیڈ ماسٹروں کی کانفرنس میں میاں عبد الحکیم صاحب ہیڈ ماسٹر اسلامیہ ہائی سکول لاہور نے جو طالب علمی کے زمانہ سے آپ کو جانتے تھے باوجود غیر از جماعت ہونے کے آپ کو دیکھتے ہی صدارت کے لئے آپ کا نام تجویز کر دیا اور دوسروں نے تائید کی۔آپ کی اسی لیاقت اور ہر دلعزیزی کا یہ نتیجہ تھا کہ اس پراونشل ایجوکیشنل ایسوسی ایشن کا سہ روزہ اجلاس ۱۹۴۵ء میں قادیان میں منعقد ہوا اور صوبہ بھر کے ہیڈ ماسٹر سلسلہ کے مرکز اور اوراس کے عہد یداروں سے متعارف ہوئے۔محترم میاں محمد ابراہیم صاحب مزید بیان کرتے ہیں کہ آپ کی طبیعت ١٠٦