دوزخ سے جنت تک — Page 14
) ہے۔14 مرغزاروں میں جاتے جاتے یہ ہم کس تہہ خانے زینے اترتے ہوئے ایک چھوٹے سے موڈ پر میں پہنچ گئے تھے۔سگریٹ اور دھوئیں کی بدبو ہر سلاخوں سے بند اُس روشندان کے پار مجھے ایک طرف پھیلی ہوئی تھی۔تھوڑی دیر بعد آنکھیں اُس بڑا ہال کمرہ نظر آیا جس میں مجھے بہت سے نیم روشن کمرے کے ماحول سے واقف ہو ئیں۔انسانی ڈھانچے ملتے ہوئے نظر آرہے تھے۔بے ایک چھوٹے سے کمرے میں جس میں عام طور پر نور آنکھیں مدقوق چہرے اور جھولتے ہوئے جسم دس بارہ انسانوں کو قید کیا جاسکتا ہے کوئی چالیس۔میرا دل خوف کے مارے حلق کو آرہا تھا۔آج کے قریب قیدی ڈالے ہوئے تھے۔کے دور میں یہ کیسے ہوسکتا ہے۔چنگیز ، ہلاکو اور ہٹلر سب سے پہلے میں نے ساتھیوں سے پوچھا کے دور میں تو سنا تھا لیکن آج کل ایک اسلامی کہ سیڑھیاں اترتے کیا آپ نے بھی وہ منظر ملک میں یہ کیا ہو رہا ہے۔کیا دوزخ اسی خطہ دیکھا ہے۔زمین پر بھی موجود ہے۔یہ کون لوگ ہیں اور کس اُن کا جواب جرم کی پاداش میں انہیں یہاں قید کیا گیا ہے۔نفی میں تھا انہیں چھڑوانے کے لئے کوئی بولتا کیوں نہیں اور اُنکا کہنا ہے۔حافظ الاسد کی تصویر ہر جگہ کیوں آویزاں تھا کہ ہے۔یہ سب سوالات سوچتے اب ہم کوئی تین سارے راستے اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔مجھے یقین منزلیں نیچے پہنچ چکے تھے۔ہماری ہتھکڑیاں کھولی ہونے لگا کہ وہ میرا واہمہ ہی ہوگا۔آج کے ترقی گئیں اور ایک چھوٹے سے در بہ نما کمرے کا یافتہ دور میں اور ایک اسلامی ملک میں ایسا ممکن آہنی دروازہ کھول کے ہمیں اُس کے اندر پھینک ہی نہیں ہے۔بہر حال اب ہم ایک چھوٹے سے دیا گیا۔ہماری حالت غیر تھی۔جرمنی کے کمرے میں کوئی چالیس کے قریب قیدی تھے۔