دوزخ سے جنت تک — Page 13
) 13 بلکہ صرف مجھے ہی آگے کرتا تھا بات کرنے کو رہی تھی۔کوئی بیس منٹ یا آدھ گھنٹے کے بعد ٹرک۔چنانچہ میں نے کوئی تین چار ٹریول ایجنٹوں سے رُکا۔ہمیں ایک بار پھر گھسیٹ کے نیچے اُتارا گیا۔بار ٹکٹوں کے حصول کی بات کی۔آخر کار ایک میں نے اپنے ساتھی سے کوئی بات کرنے کی ایجنٹ نے ہمیں اگلے روز ٹکٹیں دینے کا وعدہ کوشش کی تو ساتھ ہی ایک فوجی نے ایسا زنائے کیا اور ہمارے پاسپورٹ رکھ لئے اور اگلے روز دار تھپڑ رسید کیا کہ زمین میری آنکھوں کے آگے ہمیں آنے کا کہا۔اگلے روز خاکسار، محمد صالح گھوم گئی۔ہمارے سامنے شاہی قلعے جیسی کئی ، گئی۔بشارت اور جمشید تینوں دوست بڑے تیار ہو کے منزلوں والی ایک ہیبت ناک عمارت تھی جسکے درو بال سنوار کے خوشبو لگا کے اس ایجنٹ کے دفتر دیوار سے وحشت ٹپکتی تھی۔یقینا کوئی ایک ہزار میں جرمنی کی ٹکٹیں لینے پہنچے۔دمشق میں ہماری سال سے پرانی عمارت ہو گی۔لوہے کا آہنی آزادی کا یہ آخری لمحہ تھا کیونکہ اگلے ہی لمحے پانچ دروازہ کھلا اور فوجیوں سمیت ہم اندر داخل چھ فوجی کلاشنکوفیں تانے ہوئے کمانڈوز کی طرح ہوئے۔تھوڑی ہی دیر میں ہمیں لگا جیسے ہم دھاڑتے ہوئے ہماری طرف بڑھے اور اس سے صدیوں پرانے کنویں میں اتر رہے ہوں۔مینار پاکستان کی سیڑھیوں جیسی تنگ و تاریک سیڑھیاں تھیں جو نیچے جاتے ہوئے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔گول گول زینے اترتے ہوئے دائیں بائیں کمروں میں نظر پڑی جن میں قیدی پہلے کہ ہم اس عزت افزائی کی وجہ پوچھتے ہمیں ہتھکڑیاں لگا کے کالے شیشوں والے فوجی ٹرک میں ایسے پھینکا گیا جیسے۔کوئی مزدور اجرت نہ ملنے پر سر سے بوری پھینکتا بھیڑ بکریوں کی طرح بند تھے۔اور پھر یہیں ہے۔خوف کے مارے ہم تینوں خاموش تھے گزرتے ہوئے میں نے چند سیکنڈ کے لئے ایسا بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ہماری آواز نہیں نکل منظر دیکھا کہ مجھے لگا کہ میں نے کوئی خواب دیکھا