دوزخ سے جنت تک — Page 15
) 15 اس کمرے کے کونے میں ایک ٹائلٹ تھا جو بین الاقوامی اور بھائی چارے کا منظر تھا۔افغانی زیادہ تر مصروف رہتا تھا۔اسکی بد بو سے طبیعت کافی ہٹا کٹا قسم کا آدمی تھا اور بار بار پہلو بدل کے خراب ہونا شروع ہوگئی۔کمرے میں صرف ہم سب کو تنگ کر رہا تھا۔کھڑے ہونے کی ہی جگہ تھی بیٹھنے کی گنجائش نہ میرے بچپن کے دوست جانتے ہیں کہ مجھے تھی۔کافی دیر کھڑے رہنے کے بعد ہم تھک کے ہجوم والی جگہ پر سانس کی تکلیف ہو جاتی ہے اور یہاں سارے گر گئے۔قیدیوں نے بتایا کہ یہ یہاں کی بدنام زمانہ جیل المزہ ہے یا شائد نظار اجیل ہے۔سب قیدی ایک ہی کشتی کے مسافر تھے سوکوئی Getty Images کمرے میں دروازے میں صرف ایک ہی کوئی ایک مربع فٹ کی چھوٹی سی سلاخوں والی کھڑکی تھی۔مجھے برا نہ مناتا تھا۔رات پڑی تو سب فرش پر لیٹ سانس کی تکلیف شروع ہوگئی لیکن وہاں ایسی گئے۔میں نے لیٹے لیٹے اپنا سر ایک موٹے سے معمولی چیزوں کی پرواہ کرنے والا کوئی نہ تھا۔عربی کے پیٹ پر رکھ دیا جو سانس لیتا تھا تو مجھے جس تہہ خانے میں ہم تھے وہاں رات دن کا پتہ جھولے آتے تھے۔میرے سینے پر کسی افغانی نہ چلتا تھا کیونکہ ہر وقت ایک جیسا ماحول اور وہی نشئی کی ٹانگیں پڑی ہو ئیں تھیں اور میری ٹانگیں بلب کی مضمحل ہی روشنی ہوتی تھی۔قیدیوں میں کئی ایک پاگل فرانسیسی قیدی انٹونی کے لئے سرہانے لوگ مجھ سے بہت زیادہ تکلیف میں تھے۔پتا یعنی تکئے کا کام دے رہیں تھیں۔ایک عجیب قسم کا نہیں کیسے چوبیس گھنٹے گزر گئے اگلے روز دروازہ