دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 12 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 12

) 12 الشان ہنر کا بھی مظاہرہ کیا گیا تھا۔میں نے بہت نے ایجنٹ کو با اصرار کہا کہ وہ ہمیں جرمن ایمبیسی انکار کیا لیکن صالح نصیر اور جمشید نے یقین دہانی کب لے کے جارہا ہے کیونکہ ہمارے پیسے تیزی کروائی کہ آپ صرف نام کے ہی امیر ہوں سے ختم ہو رہے ہیں۔اُس نے ہم سب کو ایک گے۔کریں گے سب اپنی اپنی ہی۔کمرے میں بلایا ، ہماری سادہ لوحی پر دو تین قہقہے شام میں جہاں بعض پر شکوہ عمارتیں اور روپے لگائے اور پھر ہمارے سامنے ہی وہ کالی ڈائری پیسے کی فراوانی دیکھ کے خوشی ہوئی وہاں بعض کھولی۔اُسکی جلد پھاڑی اور اُس میں سے جرمنی لوگوں کی بے پناہ غربت اور مجبوریاں دیکھ کے کے ویزوں کے سٹکر نکالے اور بڑی مہارت کے پریشانی بھی ہوئی۔مثلاً ہمارے ہی ہوٹل میں ساتھ ہمارے پاسپورٹوں پر چسپاں کر دیئے۔ہم اتنی سادہ اور بے تکلف ایمسیسی دیکھ کے حیران رہ گئے اُس نے ہمیں بتایا کہ اسطرح وہ سینکڑوں نوجوانوں کو جرمنی بجھوا چکا ہے اور ویزوں کے بعض مجبور لڑکیاں ہر ہر دروازے پر دستک دیتی اصلی یا نقلی ہونے کی ہمیں فکر کرنے کی ضرورت تھیں اور چند پیسوں کی عوض کمروں کی صفائی نہیں ہے کیونکہ شامی امیگریشن کو ویزوں سے ستھرائی کے علاوہ ہر خدمت کے لئے تیار رہتی نہیں رشوت سے غرض ہے جو انہیں پہنچائی جا چکی تھیں۔ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے بعض لوگ ایسی ہے۔مجبور لڑکیوں کی مدد کرنے کو انسانی ہمدردی قرار اگلے روز وہ مجھے اپنے ساتھ لے کے سارا دن کےسارا دیتے تھے۔کافی پریشانی ہوتی تھی کہ دو ہزار مختلف ٹریول ایجنٹوں کے پاس جاتا رہا اور جرمنی مساجد والے اس شہر میں ابھی تک اتنی غربت اور کے لئے سستی ترین ٹکٹوں کی تلاش کرتا رہا۔ایک مجبوریاں کیوں ہیں۔تیسرے چوتھے دن ہم چالا کی اُس نے یہ کی کہ خود کسی سے بات نہیں کی