ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 46 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 46

خدا کی طرف رفع ہونے سے مسیح کا جسم وہ جگہ چھوڑ کر کسی اور جگہ کیوں روانہ ہو گیا جہاں خدا تعالی حاضر و ناظر اور موجود تھا۔کاش آپ لوگ قرآن کریم کو سمجھنے میں اگر تقویٰ نہیں تو محض عقل سے ہی کام لے لیا کریں تو نہ خود دھوکا کھائیں اور نہ بنی نوع انسان کو دھوکا میں مبتلا کریں۔کیا آپ کا یہ بھی ایمان ہے کہ قرآن کریم نے جس بد نصیب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کوشِئنَا لَرَفَعْنَهُ بیھا اگر ہم چاہتے تو اس کی زوران صلاحیتوں کی وجہ سے اس کا رفع کر لیتے لیکن وہ بد نصیب بد نخست از مین کی طرف جھک گیا۔کیا آپ اس آیت کا یہ ترجمہ کرتے ہیں ک اللہ تعالیٰ چاہتا توحسم سمیت اسے آسمان پر اٹھا لے جاتا مگر اس بدبخت نے جسم سمیت زمین کی طرف جھک جانے کو اختیار کر لیا۔ج -:- دَاِن مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ الأَليُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ (الساء: ۱۶۰) آپ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں مسیح کے قرب قیامت میں آنے کی خبر ہے۔مولوی صاحب ! ذرا سمجھایئے کہ قرب قیادت میں آنے کی دلیل آپ نے قائم کس طرح کی ہے ؟ آیت تو یہ کہ رہی ہے کہ اہل کتاب سیح کے قتل کے عقیدہ پر اپنی موت تک قائم رہیں گے۔اس سے سیج کی زندگی کہاں سے ثابت ہوگئی۔اگر آپ کی یہ دلیل مان لی جائے کہ تمام یہودیوں نے قرب قیامت سے قبل حضرت مسیح علیہ السّلام پر ایمان نے آتا ہے تو یہ معنے اس آیت کے ہو ہی نہیں سکتے۔کیونکہ جب سے یہ آیت نازل ہوئی ، بیسیوں نسلیں یہودیوں کی پیدا ہوئیں اور مرگئیں اور ایک مسل بھی مسیح علیہ لبتہ ایمان نہ لائی اور مرگئی۔اگر آپ کی دلیل کو اس طرح من وعن قبوں کو بھی لیا جائے السلامة تو ایک اور آیت قرآنی سے اس کا شدید تصادم ہو گا کیونکہ آپ کے بقول اس آیت کا یہ ترجمہ الاعراف : 144