ولکن شُبّھہ لھم — Page 47
ML بنے گا کہ جب مسیح دربارہ نازل ہوگا توم اس زمانہ کے اہل کتاب تمام ترسیح کے مرنے سے پہلے پہلے اس پر ایمان لا چکے ہوں گے جگہ قرآن کریم کی دوسری آیت وَجَامِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوقَ الذِينَ كَفَرُ وا ترجمہ : اور جو تیرے پیرو ہیں انہیں ان لوگوں پر جو منکر ہیں قیامت کے دن تک غالب رکھوں گا) واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کر رہی ہے۔اس واضح اور دوٹوک اعلان کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے منکرین باقی رہیں گے۔اگر چہ آپ کے ماننے والوں کو ان پر غلبہ رہے گا۔اسی طرح منکرین علیلی یعنی یہود کا قیامت تک باقی رہنا قرآن کریم کی اس آیت سے بھی ثبت ہے۔فَاغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ (المائدة :- (۱۵) ترجمہ :۔تب ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک عداوت اور سخت دشمنی ڈال دی۔پس ان صریح الدلالہ آیات کے مقابل پر آپ کی غلط تغیر کی کوئی بھی دلیل نہیں رہتی۔ویے بھی ایک ایسی تغیر جس کی صحت کا فیصلہ مستقبل کے حالات سے تعلق رکھتا مورفی ذاتہ محض ایک ظن ہے جو ہرگز استدلال نہیں کہلا سکتی۔علاوہ ازیں یہ بات بھی پیش نظر یہ ہے کہ اس آیت میں قبل موت ہے کی دوسری قرأت جو بطور مغیرہ کے ہے قبل موتهم آئی ہے اور تفسیر ابن کثیر کے مطابق حضرت ابن عباس یعنی اللہ عنہ سے یہ قرأت بسند صحیح ثابت ہے تو آپ کا استدلال جو موتی کی ضمیر میں مسیح کا تھا باطل ہوا۔د - وَإِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ۔(الزخرف : ۲۲) اس آیت میں اللہ کی ضمیر سے مراد آپ نے نزول مسیح کو قیامت کی نشانی قرار دیا ہے حالانکہ حسن بصری جیسے مفسرین نے اِنے سے مراد قرآن شریف لیا ہے۔تفسیر ابن جریر - زیر آیت هزام