ولکن شُبّھہ لھم — Page 45
نی گریاندا کا یار میرا بر صلی الہ علیہ وسلم پر تو ظاہر نہ ہو اشتر الناس پر ظاہر ہو گیا۔ب۔وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيْناه بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ (النساء ١٥٩ion) نہوں نے مسیح کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے میسج کا اپنی طرف رفع کیا۔اس آیت سے بھی م کی حیات ہرگز ثابت نہیں ہوتی۔رفع کے معنی عربی اور قرآنی محاورہ میں ہمیشہ بندی در بات اور غربت کے ہوتے ہیں۔دوسرے یہ کہ آپ نے اس آیت قرآنی کی رو سے مسیح کی زندگی ثابت کرنے کی نہایت طفلانہ کوشش کی ہے۔اگر اس آیت کریمہ میں مسیح کے زندہ رہنے کا مضمون بیان ہوتا تو کھلی کھلی من بات یہ ہونی چاہیے تھی کہ یہو د سیم کو قتل کرنے میں یقیناً نا کام ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ رکھا۔اس تمام طویل آیت میں اُن کے ایک جگہ بھی زندہ رہنے کا ذکر نہ فرمانا منے رکھتا ہے پیس ندا فرماہی نہیں رہا کہ مسیح کو ہم نے زندہ رکھا۔آپ زبر دستی اس کو زندہ کر رہے ہیں اور ذرا خون نہیں کھاتے کہ یہ کتنا بڑا گناہ کر رہے ہیں۔رها بل رفعه الله سے آپ کا استنباط تو اول تو قتل کا بر عکس رفع ہو ہی نہیں سکتا منوائے اس کے درجات کی بلندی مراد لی جائے کیونکہ دنیا میں کوئی شخص اس بات کو معقول نہیں سمجھے گا کہ فلاں شخص قتل نہیں ہو لہذا آسمان پر چڑھ گیا۔دوسرا قطعی استنباط اس امر سے یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالے نے یہاں بھی بَل فَعَهُ اللهُ إِلَى ALONE نہیں فرمایا بلکہ بَلْ رَفَعَهُ اللهُ ال فرماکر آپ کے استنباط کا سب تار و پود بکھیر دیا ہے۔ایک ایسے روحانی وجود کی طرف جو ہر جگہ موجود ہو سمبی رفع ہو ہی نہیں سکتا۔صرف روحانی رفع مراد ہے۔یعنی قرب الہی اور درجات کی بلندی۔آپ کے خیال میں کیا خدا تعالیٰ وہاں موجود نہیں تھا جہاں عیسی کو مصلوب کرنے کی کوشش کی جارہی تھی ؟