ولکن شُبّھہ لھم — Page 27
وفات، رفع کے بعد ہوئی تھی تو اس بارہ میں امام ابن حزم کا فتویٰ سن لیجیے۔وہ آپ کی اس بودی دلیل کو قطعارور کرتے ہیں اور فرماتے ہیں :- تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ رَفَعَهُ کہ اللہ نے حضرت عیسی علیہ السّلام کو پہلے وفات دی پھر اس کے بعد رفع فرمایا اب بہا نہ بھائے بسیار میں سے ایک آخری حیلہ آپ کے پاس یہ رہ گیا تھا کہ آپ توفی سے مُراد دفاۃ القوم نے لیتے ہیں۔تو ابن حزم " اس کا بھی انکار کرتے ہیں اور فرماتے ہیں۔فصح انه انما عني وفاة الموت جس کا ترجمہ خود آپ نے یہ کیا کہ فلما تُو فلینی میں وفات نوم کا ارادہ نہیں کیا گیا اس لیے یہ کہنا صحیح ہے کہ اس سے وفات موت کا ارادہ کیا ہے۔اس بحث سے قطعی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ آپ کی یہ تعلی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک حیات مسیح کے عقیدہ پر امت محمدیہ کا اجماع رھا ہے محض غلطی ہی نہیں بلکہ عمداً افتراء کا ارتکاب ہے۔یہیں شخص کو امام ابن حزم کے ان تمام فرمودات کا علم ہو وہ اپنے ہوش و حواس میں تو یہ جرات نہیں کر سکتا کہ ان کی طرف حیات مسیح کا عقیدہ منسوب کرے سوائے اس کے کہ عمدا افتراء سے کام لے کر انکی طرف یہ غلط بات منسوب کرے۔رھا آپ کا یہ رسم باطل کہ قتل اور صلیب کے ذریعہ سیٹے کی موت کا انکار کر کے مُتَوَفِّيكَ اَور تُو نیتی سے میں طبعی موت کا ابن حزم اقرار کر رہے ہیں اس سے مراد وہ دوسری سور سے جو بعثت کے بعد ہوگی۔آپ کی منڈ اور ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ ابن حزم کے ان واضح قطعی بیانات