ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 28 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 28

٢٨ کے باوجود جو ہر ابہام سے پاک ہیں ، آپ یہ ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہو جاتے۔کہ ابن حزم " جب سی کی موت کا کھلم کھلا اقرار کرتے ہیں تو اس سے مراد ان کی صرف یہ ہے کہ آسمان سے جب واپس دنیا میں لوٹیں گے ، پھر مریں گے حالانکہ خوب اچھی طرح آپ کے علم میں ہے کہ حضرت امام ابن حزم رفع کے بعد کی موت کا عقیدہ رد کرتے ہیں اور صاف لکھ رہے ہیں کہ مونیٹ کا عمل کا اعٹ کے عمل سے پہلے واقع ہوا ہے۔آپ جاہل عوام کو تو وھو کا دینے میں کامیاب ہوں یا نہ ہوں، خدا کو کس طرح دھوکہ دے سکتے ہیں۔خدا سے ڈرنا چاہیئے۔اس کے محضور آپ کی لازما جواب دہی ہوگی۔امام ابن حزم کے بیج کے رفع روح کے اس قول کی تائید مزید کتاب الفصل میں درج ان کے اس فیصلہ پر حق سے بھی ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں انبیاد۔علیہم السلام کی ارواح کو دیکھا۔دیکھئے حیات مسیح کی ایک خطرناک لغزش کے بعد کس طرح آپ کو لغزش پر لغزش اور تاریل پر تاویل کرنی پڑ رہی ہے۔صحیح بخاری کی واضح حدیث موجود ہے کہ معراج کی رات باقی نبیوں کی طرح حضرت مسیح علیہ السلام سے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی اور علامہ ابن حزم ایک طرف مسیح کی توقی بالموت کے بعد ان کے رفع روح کا اعلان کر رہے ہیں تو دوسری واشگاف لفظوں میں کہہ رہے ہیں کہ شب معراج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء کی ارواح کو دیکھا۔نہ کہ ان میں سے کسی کے جسم کو اب آپ کے لیے کیا جائے قرار باقی رہ گئی ہے ؟۔- آپ کی یہ تاویل بھی حماقت کا شاہکار ہے کہ انبیا کی روحوں کو ان کے بدنوں ہیں دیکھا گیا ہو گا۔ا پر نہ تو کوئی قرآنی دلیل ہے ، نہ مانور اور عقلی دلیل۔آپ کا قلم جو چاہے ، اگلتا چلا جارہا ہے اور آپ ذرہ بھر بھی یہ خیال نہیں کرتے کہ بحث و تمحیص میں عقلی و نقلی