ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 26 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 26

۲۶ گجراتی صاحب کے مسلک کو ناست اس بحث میں اٹھا کر امام مالک کے عقیدہ سے توجہ ہٹانے کی بے سود کوشش کی ہے۔چونکہ امام مالک کا مسیح علیہ السّلام کی موت کے بارہ میں واضح ارشاد امام محمد طاہر گجراتی نے اپنی کتاب مجمع بحارالانوار میں درج فرمایا ہے اس لیے آپ نے ایک یہ اچنبھی دلیل بھی تراش لی ہے کہ چونکہ امام محمدطاہر گرانتی مود حیات مسیح کے قائل تھے اس لیے امام مالک کے متعلق ان کا یہ لکھنا کہ وہ ممات مسیح کے قائل تھے، بر عکس منے رکھتا ہے۔امام ابن حزم کے عقیدہ وفات میں کو بھی آپ نے اپنی اس رٹ سے کمزور کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ نزولِ مسیح کے بھی قائل ہیں اور آپ نہیں سمجھتے کہ وفات عیسیٰ علیہ السلام کے بعد نزول مسیح کے ہم بھی قائل ہیں تو ابن عزم کا رجحان کسی جانب ہوا ؟ یقیناً وہ ہمارے موقف سے قریب تریں۔آپ کو یہ بھی اصرار ہے کہ ابن حزم نے محض مسیح کے قتل ہونے یا صاحب پر سر نے سے انکار کیا ہے حالانکہ خود آپ نے ان کا یہ قول نقل کیا ہے تَوَفَّاهُ اللهُ ثُمَّ رَفَعَهُ کہ خدا نے پہلے وفات دی پھر اس کے بعد رفع فرمایا۔پس اس سے تو تمام نبیوں کی طرح مسیح کا یہ نفع روح ثابت ہوا نہ کریم۔اور اپنے رکھ عقیدہ کے مطابق متوفيك در افع کی آیت قرآنی میں آپ تقدیم و تاخیر کرنے کی بے ادبی اور خسارت کرتے ہیں۔جہانتک قرآن کریم کی اس آیت کا تعلق ہے اُس میں آپ کی یہ جسارت کر نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے غلطی سے وفات کا ذکر رفع سے پہلے کر دیا حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام کی