ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 19 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 19

19۔فَلمَّا تَوَفَيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرتيب عَلَيْهِم (مائده : ۱۱۷) کہ حضرت علیلی جناب باری میں عرض کریں گے کہ جب تو نے مجھے وفات دے دی تب تو ان پر نگہبان رہے ان دونوں آیتوں میں وفات کا ذکر ہے اور یہ موت کی دلیل ہے۔اللَّهُ يَتَوَ في الْأَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا - پس ان کی وفات کی خبر بہت صاف ہے (زمر: ۴۳) رتہذیب الاخلاق جلد سوم مضامین نواب اعظم یار جنگ مولوی محمد چراغ علی خان فنانشل سیکرٹری حیدر آباد دکن ملک فضل دین ، ملک چین دین ، ملک تاج الدین گئے نئی ، تاجران کتب مطبوعه ۱۸۹۶ عرم ۲۲ - سرسید احمد خاں وفات مسیح کے قائل ہیں۔آپ تحریر فرماتے ہیں :- حضرت مسیح کے واقعات میں جیسے کہ آپ کی ولادت کا مسئلہ بحث طلب ہے ویسا ہی آپ کی وفات کا مسئلہ بھی غور کے لائق ہے۔۔۔۔۔۔ہم کو قرآن مجید پر غور کرنا چاہیے کہ اس میں کیا لکھا ہے۔قرآن مجید میں حضرت عیسی کی وفات کے متعلق چار جگہ ذکر آیا ہے۔پہلی تین آیتوں (آل عمران ۴۹ : مانده ۱۱۸ : مریم ۳۳ تا ۳۵ ناقل) سے حضرت علیلی کا اپنی موت سے وفات پانا علانیہ ظاہر ہے مگر جو کہ علماء اسلام نے یہ تقلید بعضی فرق نصاری کے قبل اس کے مطلب قرآن مجید پر غور کریں یہ تسلیم کرلیا تھا ت علیلی زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں اس لیے انہوں نے ان آیتوں کے بعض الفاظ کو اپنی غیر حق تسلیم کے مطابق کرنے کی ہے جا کوشش کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور چومتی آیت میں لفظ رفع کا بھی آیا ہے جس سے حضرت عیسی کی قدر و منزلت کا اظہار مقصود ہے۔ر تصانیف احد یہ حصته اول جلد چهارم تغیر القرآن جلد دوم صفحه ۴۰ تا هم سناء مطبع مفید عام آگره با تمام محمد قادر علی خان صوفی) ۲۳۔مولانا ابوالکلام آزاد فرماتے ہیں نہ