ولکن شُبّھہ لھم — Page 20
وفات مسیح کا ذکر خود قرآن میں ہے " الملفوظات آزاد - مرتب : محمد اجمل خان مت ۱۳ ۲۴ - علامہ عنایت اللہ مشرقی (بانی خاکسار تحریک اپنی تفسیر تذکرہ زیر آیت بَل رَّفَعَهُ اللہ الیہ میں فرماتے ہیں:- بلکہ اس میں یہ عبرت انگیز سبق موجود ہے کہ حضرت علیلی کی موت بھی اسی سنت اللہ کے مطابق واقع ہوئی بھی نجس کی بابت قرآن نے کہا ہے وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلاً (فاطر (۳۵) تذکرہ مجلد اول منك للمفتقر الى الله الرحمان محمد عنایت اللہ خان المشرقي السندی - مطبع وکیل امرتسرین با تمام شیخ محمد عبد العزیز ناظم طبع ہو کر ادارة الاشاعة للتذكرة امرتسر پہنا ہے شائع ہوئی) ۲۵ - غلام احمد پرویز ایڈیٹر ماہنامہ طلوع اسلام شعار مستور میں فرماتے ہیں:۔باقی رہا عیسائیوں کا یہ عقیدہ کہ آپ زندہ آسمان پر اُٹھا لیے گئے تھے، تو قرآن سے اس کی بھی تائید نہیں ہوتی بلکہ اس میں ایسے شواہد موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ آپ نے دوسرے رسولوں کی طرح اپنی مدت عمر پوری کرنے کے بعد وفات پائی ایک سلسله معارف القرآن شعله مستور - شائع کردہ ادارہ طلوع اسلام لاہور) ۲۶ - علامہ اقبال نے تو زید میں جماعت احمدیہ کے بارہ میں اپنے ایک مضمون میں وفات مسیح کا کھلے لفظوں میں اقرار کرتے ہوئے لکھا :- یہاں تک میں اس تحریک کا مفہوم سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ مرزائیوں کا یہ عقیدہ کہ حضرت علی علیہ السلام ایک فانی انسانکی مانند جام مرگ نوش رنا چکے ہیں نیز یہ کہ ان کے دوبارہ ظہور کا مقصد یہ ہے کہ روحانی اعتبار نے ان کا ایک مثیل پیدا ہو گا کسی حد تک معقولیت کا پہلو لیے ہوئے ہے؟