دینیات کی پہلی کتاب — Page 85
۸۵ سیالکوٹ میں ملازم رہے۔لیکن یہ عرصہ بھی زیادہ تر آپ کے دینی مشاغل میں صرف ہوا۔عیسائیوں سے آپ کی مذہبی گفتگو بھی ہوتی رہی۔باوجود مخالفت کے عیسائی پادری بھی آپ کے اعلیٰ اخلاق۔عمدہ تہذیب اور شستہ کلامی کے گرویدہ تھے۔چنانچہ وہاں کے انگریز پادری مسٹر بٹلر ایم۔اے جب اپنے وطن انگلستان جانے لگے تو آپ سے ڈپٹی کمشنر صاحب کے دفتر میں آخری ملاقات کر کے گئے۔۱۸۶۵ء کے قریب قریب آپ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوا۔اور ۱۸۷۶ء میں آپ کے والد بزرگوار کا۔اور اُن کی وصیت کے مطابق قادیان کی جامع مسجد کے صحن میں جس کا نام مسجد اقصیٰ ہے۔انہیں دفن کیا گیا۔آپ کو والد صاحب کی وفات کے متعلق کچھ فکر اور غم سا پیدا ہوا۔تو فور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے اس الہام کے ذریعہ تسلی دی کہ:۔أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ یعنی کیا خُدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں۔خدا پر بھروسہ رکھو۔وہ سب سامان کر دے گا۔آپ کی محنت کشی اوپر بیان ہو چکا ہے کہ آپ دُنیا سے منتظر تھے۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ سُست طبع تھے۔بلکہ آپ نہایت جفاکش اور لگا تار محنت کرنے کے عادی تھے۔جب کبھی آپ کو کسی سفر پر جانا ہوتا۔تو سواری کا گھوڑا نوکر کے ہاتھ آپ آگے روانہ کر دیتے اور خود پیدل ہی ۲۰۔۲۵ میل کا سفر طے کر کے پہنچ جاتے۔