دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 76 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 76

76 اس سفر کے دوران سانگلہ کی طرح جماعت اسلامی کے ایک اور مقرر صاحب نے بھی سامعین کی سمع خراشی کی اور جناب مودودی صاحب کے عالی مقام و منصب پر طویل لیکچر دیا اور اُن کے افکار ونظریات کے پڑھنے اور جماعت اسلامی میں شمولیت کی دعوت دی۔محترم گیانی صاحب نے جو بڑی دیر سے یہ پراپیگینڈا اسن رہے تھے میرے کان میں کہا کہ کتابوں کا بوجھ کس غرض کے لیے لائے ہو؟ اگر کوئی اور اسلحہ پاس ہے تو دکھاتے کیوں نہیں ہو ؟ دراصل بات یہ تھی کہ ہمارا سفر لمبا تھا اس لیے میں چاہتا تھا کہ مودودی صاحب کے پرستار اپنا کیس پوری شرح وبسط سے مسافروں کے سامنے رکھیں۔یہاں تک کہ ان کا گلا ساتھ چھوڑ جائے۔خدا کا کرنا ایسا ہوا جلدی ہی اُن کی آواز بیٹھ گئی جس پر میں کھڑا ہو گیا اور ”مولانا کی معلومات کا حاضرین کی طرف سے شکریہ ادا کیا۔پھر اُن سے استفسار کیا کہ قرآن مجید نے امت میں نبی، صدیق شہید اور صالح کے چار درجات کی خبر دی ہے۔فرمائیے آپ کے عقیدہ کی رُو سے ان مدارج عالیہ میں سے سید مودودی صاحب کو کون سا درجہ عطا ہوا ہے؟ ہمارے نزدیک تو وہ صرف اہل قلم ہیں اور اسلام کے نام پر اقتدار پر قبضہ ان کا نصب العین ہے۔اعلیٰ حضرت نے نہایت نحیف آواز میں جواب مرحمت فرمایا ”وہ صرف امیر جماعت اسلامی پاکستان ہیں۔اس پر میں نے گیانی صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ میرا ٹرنک او پر ہے اٹھا کر مچلی سیٹ پر رکھ دیں۔چنانچہ انہوں نے خوشی سے تمتماتے ہوئے یہ تکلیف گوارا فرمائی اور ٹرنک کھول کر میرے سامنے رکھ دیا۔تصرف النبی ملاحظہ ہو کہ جملہ کتابوں کے اوپر مودودی اخبار " قاصد کشمیر نمبر اور اس کے نیچے فسادات ۱۹۵۳ء کی رپورٹ تحقیقاتی عدالت پڑی تھی۔چنانچہ میں نے انہیں دکھاتے ہوئے سامعین پر خوب واضح کیا کہ یہ صاحب صریحا غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں کیونکہ جناب مودودی صاحب کے نزدیک بعض اوقات جھوٹ واجب ہوتا ہے۔(رسالہ ترجمان القرآن مئی ۱۹۵۸ء) میں ابھی ثابت کرتا ہوں کہ مودودی جماعت اپنے امیر کو خاتم النبین یقین کرتی ہے۔جس کا دستاویز کی ثبوت یہ میرے ہاتھ میں ہے یعنی قاصد کشمیر نمبر اور رپورٹ عدالت۔قاصد کے سرورق پر میاں طفیل محمد صاحب قیم جماعت اسلامی کا یہ بیان جلی عنوان سے شائع شدہ ہے کہ مودودی صاحب اسلام کے ہر مسئلہ پر سند تھے اور سند ہیں۔اب تحقیقاتی رپورٹ کے