دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 75
75 1۔کیا خبیث و طیب یعنی حق و باطل آپس میں گڈیڈ نہیں ہو سکتے۔2۔کیا خدا نے اپنے او پر دین حق کو خود ممتاز کرنے پر کوئی پابندی لگا رکھی ہے۔3۔کیا وہ زندہ خدا جو ہمیشہ سے کلام کرتا تھا اب قوت گویائی سے محروم ہو چکا ہے اور بذریعہ الہام رہنمائی کرنے سے قاصر ہے۔اب میں ڈنکے کی چوٹ کہتا ہوں کہ اگر ان امور میں سے کوئی امر بھی ناممکن نہیں تو خدا کی طرف سے اصل نظام اسلام کے حقیقی خدو خال بتانے اور ان کو دنیا پر دوبارہ نافذ کرنے کے لیے آنا کیوں محال یا ممنوع ہے؟ پس یا تو آپ کو احمدی ہونے کا اعلان کرنا ہوگا یا نظام اسلامی کے نفاذ کے بلند بانگ دعاوی سے دستبردار ہونا پڑے گا۔میں نے دیکھا کہ کیمپ حاضرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے اور کالج کے طلبہ کی خاصی تعداد باہر کھڑی ہے اور بڑے اشتیاق اور بے تابی سے جواب کی منتظر ہے۔لیکن افسوس کہ جماعت اسلامی کے ناقوس خصوصی نے وقت نماز کا بہانہ بنا کر اجلاس عام کے خاتمہ کا اعلان کر دیا۔مجلس میں راولپنڈی کے بعض احمدی طلبا کے علاوہ حضرت ماسٹر میر عالم صاحب سابق پریذیڈنٹ کوٹلی آزاد کشمیر بھی موجود تھے جنہوں نے حق کی اس فتح مبین پر مجھے کندھے پر بٹھا لیا اور مری روڈ کی قدیم احمد یہ مسجد میں لے آئے جہاں کئی اور احمدی بزرگ بھی پہنچ گئے اور راولپنڈی جماعت میں محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے خوشیوں کی ایک برقی لہر دوڑ گئی اور مسیح موعود سے خدا کا یہ الہامی وعدہ ایک بار پھر ہم نے اپنی آنکھوں سے پورا ہوتا دیکھا کہ جو تیری مدد کا ارادہ بھی کرے گا میں خود اس کی نصرت واعانت کروں گا۔اللھم صل على محمد وآل محمد 72۔ایک بار یہ عاجز جناب گیانی واحد حسین صاحب ( بیعت مارچ ۱۹۲۶ء۔وفات ۲ جولائی ۱۹۷۰ ء ) امیر وفد کے ہمراہ بذریعہ ریل ملتان روانہ ہوا۔میرے ساتھ حسب معمول لٹریچر سے بھرا ہوا ایک ٹرنک بھی تھا جو میں نے اوپر کی سیٹ پر رکھ دیا۔یہ وہی ترتک تھا جس پر آپ مدتوں قبل علاقہ تھل کے پیدل تبلیغی سفر کے دوران یہ لطیف مزاح بھی فرما چکے تھے یہ کیا بوجھ اٹھائے پھرتے ہو۔محترم گیانی صاحب کی شگفتہ مزاجی ، طنز ومزاح اور حاضر جوابی کا سکہ ہم سب مربیوں پر بیٹھا ہوا تھا۔اُن کی زندگی بھی دلچسپ اور نکتہ آفرینی اور نکتہ چینی کے واقعات سے لبریز تھی لیکن آہ و آن قدح بشکست و آں ساقی نماند