دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 74
74 میں فوجی وردی میں ہی کیمپ کے اندر جا بیٹھا اور سوال و جواب کی کارروائی سننے لگا۔میں نے دیکھا کہ کالجیٹ نوجوان کثیر تعداد میں شریک محفل ہیں۔اس وقت جماعت اسلامی کے ایک عالم دین ( غالباً مولوی صدرالدین صاحب) بڑی عمدگی سے اپنا نقطہ نگاہ پیش کر رہے تھے۔یکا یک میرے دل میں بھی جوش اٹھا اور اُن کی خدمت میں یہ سوال پیش کر دیا کہ جماعت اسلامی کا نصب العین اسلامی نظام کا قیام بتایا گیا ہے۔میں ایک فوجی سپاہی کی حیثیت سے اپنے مطالعہ کی بنا پر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اسلامی نظام کا از سر نو قیام گدی نشینوں ، واعظوں اور ادیبوں سے نہیں بلکہ ہمیشہ خدا کے نبیوں کے ذریعہ سے ہوتا رہا ہے۔لہذا یا تو قادیانیوں کی طرح صاف اقرار کریں کہ فیضان نبوت پر کوئی قدغن نہیں ہے یا پانچ ہزار سالہ مذہبی تاریخ میں سے صرف ایک مثال پیش کریں کہ کسی غیر نبی کے ہاتھوں خالص اسلامی نظام حیات از سر نو معرض وجود میں آیا ہو۔میرے اس سوال پر موصوف کے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور اپنی بجائے ایک اور صاحب کو کھڑا کر کے مجلس سے چل دیئے۔” جماعت اسلامی کے نئے ترجمان بہت تیز طرار تھے۔فرمانے لگے کہ آپ کا اصل سوال کیا ہے؟ ان کی فرمائش پر میں نے اپنا سوال دوہرایا۔فرمانے لگے نبی کی تعریف کیا ہے؟ میں نے کہا اس وقت جواب دینے کا فرض تو آپ کا ہے۔اس لیے آپ کیمپ لگا کر دوسروں کو دعوت مذاکرہ دے رہے ہیں۔بایں ہمہ میں اس وقت حاضرین کے سامنے خود کچھ عرض کرنے کی بجائے قرآن مجید سے نبی کی تعریف پیش کرتا ہوں۔کیوں کہ خدا ہی نبی بناتا ہے اور وہی اس مقام بلند کی اصل حقیقت بتلا سکتا ہے۔چنانچہ میں نے سورہ آل عمران ( آیت ۱۸۰ ) مَا كَانَ اللهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ کا ترجمہ کیا کہ اس میں تین بار مضارع کا صیغہ استعمال ہوا ہے جو حال اور مستقبل دونوں پر محیط ہے اور خدا کی ازلی سنت کی نشان دہی کرتا ہے اور اس سے یہ استدلال ہوتا ہے کہ نبی و رسول وہ شخص ہے جو خبیث وطیب (یعنی حق و باطل ) مخلوط ہو جانے کے وقت خدا سے منتخب ہو کر بھیجا جاتا ہے اور اس کی رہنمائی سے حق و باطل کو ممتاز کر دیتا ہے۔اس لیے اس کی دعوت پر ایمان فرض ہے۔قرآن مجید کی رو سے یہ تعریف پیش کرنے کے بعد میں نے پُر جوش لب والجہ میں چیلنج کیا کہ اب آپ ہمیں بتائیں کہ ان تین شقوں میں سے کون سی شق دائرہ امکان سے خارج ہو چکی ہے؟