دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 73 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 73

73 تقریب ختم ہوئی تو ہم لوگ چٹا گانگ کے ہوائی اڈہ پر پہنچے جہاں چٹا گانگ پر لیس کے ایک نمائندہ نے مجھ سے کہا کہ ہم نے تو آپ کو اور آپ کے دوسرے ممبران وفد کو خوب کوریج دی ہے حتی کہ آپ کا تعارف "HISTORIAN OF ISLAM" کے طور پر کرایا ہے مگر آپ کو معلوم ہے کہ اب آپ جس ملک میں جارہے ہیں وہ دستوری اعتبار سے آپ کو کس نام سے یاد کرے گا۔میں نے بنگالی رپورٹر کو زبانی جواب دینے کی بجائے اسے اکبر الہ آبادی کا یہ شعر لکھ دیا۔مسلمان تو وہ ہیں جو ہیں مسلماں علم باری میں کروڑوں یوں تو ہیں لکھے ہوئے مردم شماری میں -70- امسال ۲۰۰۷ء کی بات ہے کہ تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے چار معزز غیر احمدی لیکچراروں سے ( جو دیو بندی ملاؤں کے پرستار تھے ) میری طویل گفتگو ہوئی۔میں نے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی کی کتاب کو اپنی گفتگو کا محور بنایا اور ختم نبوت سے متعلق آپ کے الفاظ میں اُن کا یہ عقیدہ پوری وضاحت سے بیان کیا کہ عوام تو خاتم النبیین کے معنی آخری نبی کے لیتے ہیں مگر اصل معنی آیت کریمہ کے یہ ہیں کہ باقی نبی تو امتیوں کے باپ تھے اور محمد رسول اللہ خاتم النبین یعنی نبیوں کے باپ ہیں۔کتاب کے آخر میں حضرت مولانا قاسم نے علماء اہل سنت کا یہ عقیدہ لکھا ہے کہ آنحضرت کے بعد جو نبی آئے گا وہ آپ ہی کی شریعت کی اشاعت کرے گا۔کتاب سے خاتم النبین کے اصل معانی اور اس فتویٰ کے الفاظ نہایت بلند آہنگی سے سنانے کے بعد میں نے لیکچرار صاحبان سے پوچھا کہ آج دنیا کی سطح پر ختم نبوت کے ان حقیقی معنوں پر جماعت احمدیہ کے سوا کون ایمان رکھتا ہے۔سب کو بالاتفاق اقرار کرنا پڑا کہ صرف آپ لوگ۔لیکن ظلم وستم کی حد یہ ہے کہ یہ صاحبان زبانی اقرار کر کے چل دیئے مگر پوشیدہ پر میز پر ایک کاغذ کا پرزہ چھوڑ گئے جس میں یہ چیلنج درج تھا کہ اگر آپ کو اپنے مذہب پر یقین ہے تو ہم مناظرہ کے لیے تیار ہیں۔“ 71- قیام پاکستان کے دوسرے سال جبکہ یہ عاجز فرقان بٹالین کا رضا کا رتھا۔امام بربط سے رخصت لے کر راولپنڈی آیا جہاں لیاقت باغ میں ایک طرف احرار کے اجتماع میں احسان شجاع آبادی صاحب تقریر کر رہے تھے اور دوسری طرف جماعت اسلامی کی مجلس مذاکرہ کا کیمپ تھا۔