دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 66
66 99 کہ آنحضرت ﷺ نے ہر امتی کو چودہ صدیوں سے حکم دے رکھا ہے کہ ہر نماز کے وقت مسجد میں داخل ہوتے ہوئے یہ دعا پڑھیں۔رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتك" (ترندی احمد ، ابن ماجہ بحوالہ مشکوۃ) میرے رب میرے گناہ معاف فرما اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔اور مسجد سے نکلتے ہوئے ان الفاظ میں دعا کرنے کا ارشاد نبوی ہے کہ: رب اغفرلی ذنوبي وافتح لي أبواب فضلك (ایضاً) میرے رب میرے گناہ معاف فرما اور میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔ان ابدی دعاؤں کا سرچشمہ کتاب اللہ ہے۔اور اعجاز قرآنی ملاحظہ ہو کہ آل عمران آیت نمبر ۷۵ میں رحمت وفضل دونوں کا ذکر یکجا طور پر موجود ہے۔رب کریم فرماتا ہے يُخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللَّهُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِيمِ ( ترجمہ ) وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لیے خاص کر لیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا اب سنئے مشہور عالم تابعی مفسر حضرت مجاہد (۶۶۴۲-۷۲۳ء) کے نزدیک اس آیت کریمہ میں رحمت سے مراد نبوت ہے۔(در منشور للسیوطی) اور فضل عظیم کی تغییر خود قرآن عظیم نے ( سورہ جمعہ کی آیت ۴ - ۵ میں ) یہ فرمائی ہے کہ : وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيم۔یعنی آخرین میں بھی وہ رسول اللہ کو بھیجے گا جو ابھی تک ان صحابہ سے نہیں ملی اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے گا دے گا اور اللہ فضل عظیم والا ہے۔قول مصطفی کی اس قرآنی تفسیر کے بعد مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔63- خلافت ثالثہ کا مبارک دور تھا۔خاکسار بیت اقصیٰ میں حضور کا پر معاف خطبہ سننے کے بعد اقصیٰ چوک تک پہنچا تو تعلیم الاسلام کالج کے احمدی اور غیر احمدی طلبہ کا ایک ہجوم نظر آیا جسے ایک