دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 64 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 64

64 60- ۱۹۷۴ء کی بات ہے کہ راولپنڈی سے تبلیغی جماعت کے ایک بزرگ مرکز سلسلہ میں تشریف لائے اور بتلایا کہ انہوں نے لوگوں کو صحیح کلمہ پڑھانے ، وضو اور طہارت کے مسائل سکھلانے اور ان کو پکا نمازی بنانے کی خاطر اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے۔میری گزارشات کا خلاصہ یہ تھا کہ ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان اسمبلی نے عملاً یہ فیصلہ دیا کہ قانونی اور دستور مسلمان ہونے کے لیے فقط کلمہ گو ہونا کافی نہیں بلکہ اُسے بھٹو صاحب اور علماء کی اختراع کی ہوئی نئی تعریف مسلم پر ایمان لانا ضروری ہے۔لہذا جب کلمہ منسوخ کر دیا گیا اسے پڑھانے کی زحمت آپ کیوں گوارا فرماتے ہیں؟ میں نے دریافت کیا کہ آپ اذان بھی دیتے ہیں۔جواب دیا ہاں۔میں نے ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ مؤذن کو کہنا پڑتا ہے اشهد ان لا اله الا اللہ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔آپ جانتے ہیں کہ شہادت صرف عینی گواہ دے سکتا ہے اور خدا کے موجود ہونے کی گواہی الہام ووحی کا مبط بنے بغیر ممکن ہی نہیں۔لیکن آپ حضرات کے نزدیک تو سلسلہ مکالمہ مخاطبہ الہیہ تا روز قیامت بند ہو چکا ہے۔لہذا آپ شہادت کیسے دے سکتے ہیں کہ خدا واقعی موجود ہے۔یہ اعزاز صرف احمدی کو حاصل ہے جس کے نزدیک اسلام موسیٰ کا طور ہے جہاں خدا کلام کر رہا ہے لہذا اذان دینے کا اصل حق تو صرف احمدیوں کو حاصل ہے۔آپ لوگ اس کے اصولاً مجاز ہی نہیں۔آخر میں ان سے دریافت کیا گیا کہ نماز کے دوران آپ حضرات درود شریف بھی پڑھنا لازم سمجھتے ہیں۔فرمایا یقینا۔میں نے ان سے نہایت ادب سے عرض کیا کہ درود شریف میں دعا سکھلائی گئی ہے کہ اے خدا جو نعمت تو نے آل ابراہیم کو عطا فرمائی تھی آل محمد کو بھی اس سے مالا مال کر دے۔ظاہر ہے آل ابراہیم کو جوعظیم ترین نعمت و برکت عطا ہوئی وہ نبوت تھی۔اب غور فرمائیے جو سرے سے آنحضرت کی تاثیرات قدسیہ سے فیضان نبوت ہی کو بند کیے بیٹھے ہیں انہیں نماز کے وقت درود شریف پڑھنے کا بھلا کیا حق ہے؟ عاجز کی در دول سے نکلی ہوئی یہ سب باتیں وہ بزرگ بہت توجہ سے سنتے رہے اور آبدیدہ ہو گئے اور دیگر از اور رقت بھرے الفاظ میں فرمانے لگے افسوس ساری عمر گزرگئی مگر کسی ہمارے عالم کو یہ حقائق بتانے کی توفیق نہ ملی۔نہ ہمیں ہی ان کا خیال آیا جو ہماری بدنصیبی ہے۔