دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 62 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 62

62 57- ایک شیعہ ذاکر مولوی بشیر احمد صاحب آف ٹیکسلا نے احمد نگر متصل ربوہ تقریر کی او جلسہ عام میں اہل سنت و الجماعت کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ لوگ خواہ مخواہ قادیانیوں سے میل ملاپ رکھتے ہو۔وہ تو تمہارا جنازہ تک پڑھنے کے روادار نہیں ہیں۔اگلے دن جماعت احمد یہ احمد نگر کے زیر اہتمام اس کے جواب میں جلسہ منعقد ہوا جس میں حضرت قاضی محمد نذیر صاحب پر نسپل جامعہ احمدیہ اور گیانی واحد حسین صاحب ( شیر سنگھ ) مربی سلسلہ اور خاکسار کی تقاریر ہوئیں۔میں نے جنازہ سے متعلق سوال کی نسبت کہا کہ احمدی تو آنحضرت ﷺ کے پاک اسوہ کے پابند ہیں۔حدیثوں سے ثابت ہے کہ حضور نے کسی قرضدار صحابی کا جنازہ نہیں پڑھا۔اب میں بتاتا ہوں پوری امت مسلمہ پر بھی آنحضرت ﷺ کا ایک بھاری قرض ہے اور وہ یہ کہ جب امام مہدی کا ظہور ہو تو ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس کی آواز پر لبیک کہے اور خواہ اسے برف کے تودوں پر سے گھٹنوں کے بل بھی جانا پڑے اسے مہدی کے حضور پہنچ کر بیعت کرنی چاہیے۔اب کوئی عاشق رسول بتائے کہ جو شخص ہمارے مقدس نبی، نبیوں کے شہنشاہ محمد رسول اللہ ﷺ کا قرضدار ہو ہم غیور احمدی جن کا مذہب ہی عشق رسول ہے، اس شخص کا جنازہ پڑھنے کی کیسے جرات کر سکتے ہیں؟ یہ معاملہ دو ایک منٹ کھڑے ہو کے دعا کرنے کا نہیں۔اُس رسول سے غیرت کا سوال ہے جس کی خاطر خدائے ذوالعرش نے کائنات عالم پیدا کی ہے۔اس کے بعد میں نے احمد نگر کے سنی بھائیوں سے کہا کہ اب میں آپ حضرات کو یہ بتانا چاہتا ہوں که شیعه دوست بعض اوقات سُنیوں کا نماز جنازہ ضرور پڑھتے ہیں مگر آپ کو یہ بھی معلوم ہونا ضروری ہے کہ اہلسنت کی نماز جنازہ میں جو دعائے مغفرت کرتے ہیں وہ کن الفاظ میں ہوتی ہے۔شیعوں کے ثقہ اسلام محمد بن یعقوب کلینی کی زبانی اس کی عبارت سنئے اور غور سے سنئے۔< "اللهم املاء جوفه نارا وسلط عليه الحيات والعقارب۔( الفروع من الکافی کتاب الجنائز مطبوعہ مطبع نولکشور لکھنو اشاعت ۱۸۸۵ء) یعنی اے خدا اس کا پیٹ آگ سے بھر دے اور اس پر سانپ اور بچھو مسلط فرما دے۔دعائے مغفرت کا ترجمہ سنتے ہی شیعہ حضرات تو شرم کے مارے سر چھپا کے چپکے سے کھسک گئے۔اگلے روز ہم نے دیکھا کہ احمد نگر کی جس گلی کوچہ سے کوئی شیعہ صاحب گزرتے تھے سنی بچے تک اُن کی شکل دیکھتے ہی مخصوص دعا اونچی آواز سے پڑھ دیتے اور وہ جلدی سے اپنی جان چھڑا کر بھاگ کھڑے ہوتے۔