دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 61
61 موجود ہے۔ظاہر ہے یہ نام فطری اور طبعی ترتیب کے مطابق کلمہ طیبہ کے بعد ہی ہونا چاہیے۔یہ بزرگ خاصی دیر تک ورطۂ حیرت میں ڈوبے رہے۔پھر ارشاد فرمایا کہ کلمہ طیبہ یقینا قرآن میں موجود ہے لیکن دو الگ الگ سورتوں میں تقسیم ہو کر، یکجا ایک آیت میں نہیں۔میں نے عرض کیا جس خدا نے مبارک کلمہ اکٹھا نہیں لکھا وہ اس کے علمبر دار کا نام ایک آیت میں کیوں یکجا رقم فرماتا۔پس غلام احمد کے نام کے پیچھے بالکل یہی فلسفہ کارفرما ہے۔اللہ جل شانہ نے لفظ غلام آل عمران میں اور لفظ ”احمد“ سورہ صف میں لکھا ہے۔پس غلام احمد کا نام بھی یقینا کتاب اللہ میں شامل ہے۔لہذا اب مولا نا المکرم اپنے وعدہ کے مطابق ابھی بیعت فارم پر کر دیں۔یہ سنتے ہی آنجناب اپنے عزیز شاگردوں کو پکڑ کر فی الفور باہر نکل گئے اور افتاں و خیزاں ربوہ کے اڈہ پر پہنچ کر دم لیا۔56- پشاور کی ایک مجلس سوال و جواب عہد خلافت ثانیہ میں منعقد ہوئی جس کی صدارت حضرت سیدی صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے فرمائی۔ایک تحریری سوال یہ ہوا کہ مرزا صاحب نے تمام نبیوں کا بروز ہونے کا دعوی کیا ہے جو گستاخی ہے۔میں نے مختصر ابتایا کہ ایسے بلند دعاوی حضرت جنید بغدادی اور دیگر بہت سے صلحائے امت نے بھی کیے ہیں مگر فرق یہ ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اس دعوی کے ساتھ ہی بیانگ دہل یہ حقیقت بھی نمایاں فرمائی ہے کہ این چشمه روال کہ خلق خدا وہم یک قطره از بحر کمال محمد است a کہ میں مخلوق خدا کو جو چشمہ دے رہا ہوں وہ کمال محمد ﷺ کے نا پیدا کنار سمندر کا فقط ایک قطرہ ہے۔اب سامعین حضرات تصور کریں کہ جس نبی کے ایک قطرہ میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی جلوہ گر میں اس نبی کے لامحدود سمندر کی کیا شان ہوگی ؟ ضمنا خاکسار نے جناب باقر مجلسی صاحب ( بلند پایہ شیعہ مؤلف ) کی کتاب ” بحارالانوار جلد ۱۳ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت اقدس کا یہ دعوی تو آپ کی صداقت کا چمکتا ہوا نشان ہے۔کیونکہ آئمہ اہل بیت کی یہ پیشگوئی اس میں درج ہے کہ امام مہد کی تمام نبیوں کا بروز ہونے کا دعوی کرے گا۔