دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 59 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 59

59 اس کی اسلام اور قرآن سے جہالت فورا ظاہر ہو جائے گی۔مثلاً اسی مصرعہ کو لیجئے۔وہ لوگ جو حضرت ابراہیم پر جھوٹ ، حضرت نوح پر شرک ، حضرت یوسف پر ارادہ زنا، حضرت داؤڈ اور پاکوں کے سردار محمد مصطفی ﷺ پر معاشقہ سے متعلق روایات پڑھتے اور پڑھاتے ہیں، وہی جائے نفرت سے مراد شرمگاہ لیتے ہیں مگر قرآن کا نظریہ اس کے بالکل برعکس ہے۔فرماتا ہے جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ہم انہیں جنت الفردوس کے وارث بنائیں گے۔(المومنون رکوع ۱) اس ایک مثال سے ہی واضح ہو گیا کہ اس مصرعہ کو غلط معانی پہنانے والے قرآن مجید کے پکے دشمن ہیں۔یہی وہ بد زبان ہیں جن کی دشنام طرازی اس وقت اپنے عروج تک پہنچ جاتی ہے جب وہ سامعین کو مشتعل کرنے کے لیے حضرت مسیح موعود کا یہ الہام پیش کرتے ہیں کہ الہی بخش تیرا حیض دیکھنا چاہتا ہے“ حالانکہ حضرت خاتم الانبیا نے خود یہ اصطلاح استعمال فرمائی ہے۔چنانچہ مشہور حدیث ہے "الكذب حيض والاستغفار طهارته " ( كنوز الحقائق از حضرت امام مناوی رحمۃ اللہ ) یعنی جھوٹ حیض ہے اور جس سے انسان استغفار کر کے پاک ہو جاتا ہے۔اس ضمن میں حضرت اقدس نے حمل کا استعارہ بھی اپنے لیے بیان فرمایا ہے جو آنحضرت ﷺ کے ارشاد مبارک میں بھی ہمیں ملتا ہے۔آنحضور نے فرمایا حشر میں سب لوگ حاملہ کی طرح ہوں گے جس کو کچھ پتہ نہیں کہ کب وضع حمل ہو گا۔چنانچہ ارشاد نبوی ہے "اذا كان الساعة من الناس كالحامل المتمم لايدرى اهلها متى تفجاء لهم بولادتها اليلا أو نهارًا ) متدرك جلد ۴ صفحه ۵۴۶ روایت حضرت عبداللہ بن مسعود۔مطبوعہ بیروت لبنان) افسوس صد افسوس جس جھوٹ کو خاتم الانبیا ﷺ نے حیض سے تشبیہ دی ہے دیو بندی اور مودودی امت کے یہاں اُسی کا بازار گرم ہے اور حیض کے طوفانوں میں بُری طرح غرق ہیں جس کا نا قابل تردید ثبوت یہ ہے کہ مودودی صاحب کا عقیدہ تھا کہ بعض اوقات جھوٹ بولنا واجب ہو جاتا ہے۔کانگرسی لیڈرحسین احمد مدنی نے بھی نقش حیات میں اس کے وجوب کا فتوی دیا ہے اور مولوی رشید احمد گنگوہی (دیوبندی امت کے بانی اسلام کے ثانی) کہ فتاوی میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ ضرورت کے وقت انسان کو کذب صریح یعنی سفید جھوٹ بولنا چاہیے۔سبحان اللہ تقویٰ کی کیسی کیسی باریک راہیں ان دین فروشوں نے کھول دی ہیں !!