دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 11
11 فرانس جیسے پُرشکوہ ملکوں سے جلا وطنی گوارا کر لی مگر ان کے نظام حکومت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور جلاوطنی کے عالم میں انگلستان میں پناہ لی جہاں " DE CAPITAL" میں ایک نیا نظام پیش کیا جس کا اس سے پہلے تاریخ عالم میں نام و نشان تک نہ تھا۔آپ بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان میں ابھی نہ قرآنی نظام موجود ہے نہ کمیونزم، اس لیے ہمیں اس ملک میں کوئی سیاسی و معاشی عمارت تعمیر کرنے سے پہلے مختلف نظاموں کے نقشوں پر غور کرنا چاہیے۔انشاء اللہ میں ثابت کر دکھاؤں گا کہ قرآنی نقشہ ہی بہترین ہے۔کمیونسٹ دوست نے میری رائے سے اتفاق کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ نقشہ تو وہی درست " ہے جو کتاب اللہ نے پیش کیا ہے۔اس پر میں نے انہیں دعوت دی کہ وہ جماعت احمدیہ میں داخل ہو کر دنیا کو قرآن کے ضابطہ حیات سے روشناس کریں۔تا نہ صرف پاکستان بلکہ تمام ممالک عالم کی تعمیر اسی آفاقی نقشہ کے مطابق ہو سکے۔5- ایک مجلس میں ایک فاضل دوست نے سوال کیا کہ قرآن تو ایک محدود صفحات پر مشتمل کتاب ہے۔اس کے حقائق و معارف بانی سلسلہ احمدیہ کے دعوی کے مطابق غیر محدود کیونکر ہو سکتے ہیں؟ میں نے بے ساختہ جواب دیا کہ اردو کے حروف تہجی ۳۷، فارسی کے ۳۲ اور عربی کے ۲۹ ہیں۔بایں ہمہ انہی چند حروف کو مختلف الفاظ میں ڈھال کر آج تک بے شمار کتا بیں چھپ چکی ہیں اور یہ سلسلہ روز قیامت تک جاری رہے گا۔6- ایک بار حضرت خلیفہ اسیح الثالث ”بیت الفضل‘ اسلام آباد کی بالائی منزل میں قیام فرما تھے اور خاکسار نیچے کمرہ میں۔پرویزی مسلک کے ایک نوجوان پیغام لائے کہ آپ کے مرزا صاحب نے مجھے آپ کے پاس بغرض گفتگو بھیجا ہے۔میرا عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد مجدد، ولی ، امام، نبی اور وحی و الہام بلکہ کچی خواب کا دعویٰ ختم نبوت کے منافی ہے۔اب ہمارے لیے قیامت تک قرآن کافی ہے۔( یادر ہے کہ یہی نظریہ ملک محمد جعفر خاں وزیر مملکت مذہبی امور کا تھا اور اسی کے مطابق انہوں نے سے تمبر کی قرارداد کا مسودہ لکھا۔شاہد ) میں نے ان کا پُر تپاک استقبال کیا اور عرض کیا کہ اس میں کسی مسلمان کو کلام نہیں کہ قرآن مجید مکمل دستور ہے مگر قیامت کا عالم یہ ہے کہ مسلم دنیا کے تمام ۷۲ فرقے اس کامل قانون کے الگ الگ اور متضاد معنی کرتے ہیں۔بالفاظ دیگر ایک