دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 12
12 قرآن کی ۷۲ تفسیریں ہیں۔قرآن میں یہ بھی پیشگوئی ہے کہ دین کامل کو ساری دنیا پر غلبہ نصیب ہوگا۔مگر سوال یہ ہے کہ دستور قرآنی کی ۷۲ تفسیروں میں سے کس کو مستند (AUTHORITY) قرار دے تا اس پر خود عمل کرے اور غیر مسلموں کو بھی دعوت قرآن دے۔علماء خواہ لاکھوں ہوں وہ صرف اپنے فرقہ کے وکیل ہیں اور فیصلہ وکیل نہیں کر سکتے ، حکومت کا مقرر کردہ حج ہی کر سکتا ہے۔اس دستوری نکتہ کو پیش کرنے کے بعد میں ان سے دریافت کیا کہ قرآن عظیم نے عاد، ارم، اصحاب الاخدود، اصحاب الحجر، منبع اور قوم اور فراعنہ مصر کا ذکر کیا ہے جن میں بعض کی آبادی متحدہ پاکستان سے بھی کم تھی۔اگر آپ واقعی قرآن مجید کو کامل سمجھتے ہیں تو بتائیے آج پوری امت مسلمہ (جو کروڑوں پر محیط ہے ) کی اس عالمی مصیبت اور اس کے علاج کا ذکر بھی اس میں لکھا ہے۔میرے اس سوال پر وہ سخت پریشان ہو کر فرمانے لگے کہ میں نے کبھی اس پہلو سے قرآن پڑھا ہی نہیں ، آپ بتائیے۔اس پر میں نے کہا جماعت احمدیہ کا یقین ہے کہ بلا شبہ کتاب اللہ مکمل شریعت ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اس نے عہد حاضر کے مسلمانوں کی کیفیت کا نقشہ ہی نہیں کھینچا ، اس کا علاج بھی بتادیا ہے۔چنانچہ سورہ آل عمران کی آیت ۱۸۰ میں صاف پیشگوئی موجود ہے کہ ایک وقت امت پر ایسا آئے گا جبکہ خبیث اور طیب یعنی قرآن کے غلط اور صحیح معانی آپس میں مخلوط ہو جائیں گے مگر خدا تعالیٰ جس نے اس آفاقی قانون کو اتارا ہے، اس صورت حال پر معاذ اللہ خاموش تماشائی نہیں بنارہے گا۔نہ وہ ہر مسلمان کو اصل معنی سے باخبر فرمائے گا بلکہ جسے وہ چاہے گا اسے رسول کے طور پر چن لے گا۔اس وقت تمہارا فرض ہوگا کہ دستور قرآنی کی اس تشریح کو قبول کرو جو اس آسمانی حج کی طرف سے کی جائے اور گو اس میں مشکلات بے انداز ہوں گی لیکن اگر ایمان لاؤ گے اور تقویٰ پر بھی قدم مارو گے تو تمہیں اجر عظیم سے نوازا جائے گا۔یہ قرآنی فیصلہ انہوں نے گہری دلچپسی سے سنا اور اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وعدہ کر کے رخصت ہو گئے۔7- یہ خلافت ثانیہ کے آخری بابرکت دور کا واقعہ ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد نے حضرت مصلح موعود کی اجازت سے مجھے دنیا پور جانے کا ارشاد فرمایا جہاں مشہور احراری سائیں لال حسین اختر صاحب اشتعال انگیز تقریریں کر رہے تھے۔۔