دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 77 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 77

77 شہید اور صالح کا درجہ پا سکتا تھا۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے نتیجہ میں ان مدارج کے علاوہ نبوت کا مرتبہ بھی مل سکتا ہے۔یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ سورۃ نساء کی مندرجہ بالا آیت میں مَعَ الَّذِينَ کے الفاظ ہیں یعنی ایسے لوگوں کے ساتھ ہوں گے جو نبی ،صدیق، شہید اور گے۔صالح ہوں گے اس سے یہ کہاں پتہ لگا کہ وہ ان میں سے ہوں اعتراض قلتِ تدبیر کا نتیجہ ہے اور عربی زبان اور قرآنی اسلوب بیان۔نا واقفیت کا نتیجہ ہے کیونکہ متعہ کے معنی سیاق و سباق اور قرینہ کے مطابق بعض اوقات صرف ”میں“ کے ہوتے ہیں ساتھ کے نہیں۔جیسا کہ دعا سکھائی وتوفنا مع الابرار (آل عمران: ۱۹۴) یعنی مومن یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم کو نیک لوگوں کے ساتھ وفات دے۔اس آیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جب کوئی نیک آدمی مرنے لگے تو ہم بھی مر جائیں بلکہ صرف یہ مطلب ہے کہ ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم نیک لوگوں میں شامل ہوں۔اگر مندرجہ بالا آیت میں مع“ کا ترجمہ ”ساتھ“ کیا جائے تو آیت بے معنی ہو جاتی ہے کیونکہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ خدا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کی پیروی سے انسان نبی تو نہیں ہو سکتا ہاں ان کے ساتھ ہو گا تو لازما یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان چاروں درجوں میں سے کوئی درجہ بھی نہیں ملے گا۔صرف ان کے ساتھ ہونے کا شرف حاصل ہوگا۔جن کو یہ مدارج ملیں گے۔اگر انسان صالح یا نیک بھی نہ بن سکا تو پھر کیا فائدہ ہوا۔اس سے تو نعوذ باللہ یہ