دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 27
27 ے۔رکوع کے وقت کمر سیدھی ہو اور نگاہیں نیچے سجدہ گاہ پر ہوں۔رکوع پورے اطمینان سے کیا جائے۔۸۔رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا چاہئے۔پھر اطمینان سے سجدہ کیا جائے۔سجدہ میں جانے کیلئے گھٹنے زمین پر پہلے رکھے سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری ہو۔سجدہ کے وقت پیشانی ، ناک، دونوں ہاتھ ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کے پنجے زمین کو چھورہے ہوں۔کہنیاں زمین سے اونچی ہوں۔باز و بغلوں سے اور رانوں سے الگ ہوں۔ہاتھوں کی انگلیاں اکٹھی اور قبلہ رخ ہوں۔اسی طرح پاؤں کی انگلیاں بھی۔پاؤں زمین سے اُونچے نہ کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سینے پر ہاتھ باندھتے تھے۔بعض لوگ ناف پر یا پیٹ پر باندھتے ہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔یہ جواز کی صورتیں ہیں۔۱۰۔نماز میں اگر کچھ بھول جائے یا کسی قسم کی کمی بیشی کا خیال ہو تو یقینی حصہ سے نماز پوری کرے اور تشہد ، درود اور ماثورہ دعاؤں کے بعد سلام سے پہلے یا پیچھے دو سجدے سہو کرے۔مثلاً شبہ ہو کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو تین یقینی سمجھ کر ایک رکعت اور پڑھے اور پھر سجدہ سہو کرے۔۔امام اگر کوئی چیز بھول جائے یا غلطی کرے تو مقتدیوں کو چاہئے کہ سبحان اللہ کہیں۔اگر امام اپنی غلطی کو نہ پہچانے تو امام کی اتباع کی جائے اور بعد نماز غلطی سے مطلع کر دیا جائے۔اگر امام کوئی آیت بھول جائے یا غلط ا۔