دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 133 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 133

133 پر ایسا تباہ کن اثر ڈال رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ میرا منع کرنا تو الگ رہا اگر میں ممانعت نہ کروں تو بھی مومن کی رُوح کو خود بخود اس سے بغاوت کرنی چاہئے۔( مطالبات صفحہ ۲۷ تا ۴۱ ) اس زمانہ میں ٹیلی ویژن کی وجہ سے سنیما جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔گھر میں بیٹھے بیٹھے ڈرامے دیکھے جاسکتے ہیں۔سنیما اور ٹیلی ویژن اپنی ذات میں تو بُرے نہیں لیکن اس زمانہ میں ان کا نقصان نفع سے زیادہ ہے اور خرابیوں کے پھیلانے کا ایک اہم ذریعہ بن گئے ہیں اس لئے اس امر کی ضرورت ہے کہ پورا کنٹرول ہو اور لغو نظاروں کے دیکھنے میں وقت نہ ضائع کیا جائے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے جو کچھ سنیما کے بارے میں ارشاد فرمایا وہی ٹیلی ویژن کی فلموں، ڈراموں اور نظاروں پر بھی صادق آتا ہے۔ٹیڈی ازم اور فیشن پرستی موجودہ دور کچھ ایسا ہے کہ لوگ ایکٹروں اور ایکٹرسوں کو جس شکل اور جس لباس میں دیکھتے ہیں اس کی نقل کرنے لگتے ہیں اور یہ نقالی ایک روکی طرح ملک میں پھیل جاتی ہے۔عورتوں میں ناخن بڑھانے کا فیشن وبا کی صورت اختیار کر گیا ہے اور یہ سب مغربی تہذیب کی نقالی ہے۔ایک مجلس مشاورت کے موقع پر حضرت خلیفة اتبع الثالث نور اللہ مرقدہ نے فرمایا:۔