دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 132
132 علیہ وسلم کے وقت میں ہوتا تو آپ نے اپنے لئے اور نہ اپنے صحابہ کے لئے کبھی اس کو تجویز کرتے۔بلکہ منع کرتے۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحه ۳۶۸ نیا ایڈیشن ) سنیما تھیٹر مغربی ممالک میں جو بے راہ روی پیدا ہو چکی ہے اور فحاشی جس حد تک ان کے معاشرہ میں سرایت کر چکی ہے موجودہ دور میں ان کے مناظر سنیما کے پردہ پر دکھائے جاتے ہیں جو نئی نسل میں مذہب سے دوری اور بد اخلاقی کا میلان پیدا کرتے ہیں۔رو پہیہ اور وقت کا ضیاع اس کے علاوہ ہے انہی خرابیوں کے پیش نظر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے جو ہدایات جاری فرمائیں ان میں سے چند بطور نمونہ درج ہیں۔فرمایا:۔ا۔اس کے متعلق میں جماعت کو حکم دیتا ہوں کہ کوئی احمدی سنیما، سرکس، تھیٹر وغیرہ غرضیکہ کسی تماشے میں بالکل نہ جائے اور اس سے بکنی پر ہیز کرے۔ہر مخلص احمدی جو میری بیعت کی قدر و قیمت سمجھتا ہے اس کے لئے سنیما یا کوئی اور تماشہ وغیرہ دیکھنا یا کسی کو دکھانا نا جائز ہے۔مطالبات تحریک دید ایڈیشن چہارم صفحه ۳۷) سنیما کے متعلق میرا خیال ہے کہ اس زمانہ کی بدترین لعنت ہے۔اس نے سینکڑوں شریف گھرانوں کے لڑکوں کو گویا اور سینکڑوں شریف گھرانوں کی لڑکیوں کو ناچنے والی بنا دیا ہے اور سنیما ملک کے اخلاق