دینی نصاب — Page 27
فرمایا:- ’ہاں کیونکہ وہ سفر ہے۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی طبیب یا حاکم بطور دورہ کئی گاؤں میں پھرتا ہے تو وہ اپنے تمام سفر کو جمع کر کے اسے سفر نہیں کہہ سکتا۔“ (ملفوظات جلد دہم صفحہ ۱۰۰)۔اگر کسی جگہ پندرہ روز قیام کرنے کا ارادہ ہو تو قصر نہ کرے۔اور اگر کوئی ارادہ نہیں تو پھر قصر کرتا رہے۔نماز جمع : سفر کی حالت میں یا بارش کے وقت یا کسی اور مجبوری کے وقت یا کسی دینی اجتماع کی خاطر نمازیں جمع کی جاسکتی ہیں یعنی ظہر اور عصر اور مغرب و عشاء۔نمازیں جمع کرنے کی صورت میں سنتیں معاف ہیں۔میت کے احکام اور نماز جنازہ ا۔جب کوئی شخص فوت ہونے لگے تو اُس کے پاس سورۃ یسین پڑھی جائے ، ذکر الہی کیا جائے، کلمہ طیبہ کا ورد کیا جائے اور جب وہ فوت ہو جائے تو إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھے اور اس کی آنکھیں یا منہ کھلا ہو تو انہیں فوراً بند کر دینا چاہیئے۔اور پاؤں سیدھے کر دینے چاہئیں۔۲۔میت کو غسل دیا جائے۔غسل کے پانی میں بیری کے پتے ابال لینا بہتر ہے۔یا کوئی جراثیم کش دوا ملالی جائے۔کیونکہ بظاہر بیری کے پٹوں کی یہی حکمت معلوم ہوتی ہے۔غنسل کرانے والا پہلے استنجاء کر وائے پھر وضو کی جگہوں کو دھو دے، ناک اور منہ میں پانی نہ ڈالے پھر داہنے پہلو کو، پھر سارے بدن کو غسل دے۔عورت کے بال گندھے ہوئے نہ رہیں انہیں کھول دیا جائے۔بعدہ کا فور وغیرہ لگایا جائے۔غسل کے بعد میت کو کفن پہنایا جائے کفن میں مرد کیلئے تین کپڑے ہیں۔ایک گرتہ، 27