دینی نصاب

by Other Authors

Page 288 of 377

دینی نصاب — Page 288

زیادہ مستحسن اور پیاری آواز اس بلانے والے کی ہے جو اپنے رب کی طرف بلائے لیکن اس کے ساتھ تین شرطیں لگا دیں۔(۱) وہ اللہ کی طرف بلائے (۲) وہ عمل صالح رکھتا ہو (۳) وہ اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں۔در حقیقت اس آیت میں مسلمان بننے کی تعریف میں یہ امر شامل کر دیا کہ اس کیلئے داعی الی اللہ ہونا اور عمل صالح بجالا ناضروری ہے۔داعی الی اللہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس دعوت میں بلانے والے کا ذاتی کوئی مقصد پنہاں نہ ہو۔وہ خالصہ اللہ تعالیٰ کی خاطر اس کی طرف بلائے عمل صالح کی تشریح قرآن کریم میں یوں کی گئی ہے کہ:۔إنَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (سورة توبه ) یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی نفوس بھی خرید لئے ہیں اور ان کے اموال بھی اور وہ اس کے بدلہ میں انہیں جنت عطا فر مائے گا۔اس سودے میں نفوس کی قربانی بھی طلب کی گئی ہے اور اموال کی بھی اور نفوس کو مقدم کر کے اسے شرط اول قرار دیا ہے۔پس عمل صالح میں جان کی قربانی، وقت کی قربانی ، اور مال کی قربانی سب آگئیں محض چندے ادا کر کے یہ سمجھ لینا کہ ذمہ داری ادا ہو گئی بالکل غلط ہے۔یہ تو لنگڑا ایمان ہوا جس کی وجہ سے لازماً دعوۃ الی اللہ کے کام میں نقص واقع ہوگا۔اس وقت قریباً سوا تین لاکھ عیسائی مبلغ دنیا میں کام کر رہے ہیں۔ان کے مقابل دوسو یا چارسو مبلغوں کے ذریعہ اسلام کو دنیا میں غالب نہیں کیا جاسکتا۔حضور نے فرمایا کہ میں تمام دنیا کے احمدیوں کو متنبہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد ان میں سے ہر ایک کو لازماً مبلغ بنانا پڑے گا۔خواہ اس کا تعلق زندگی کے کسی شعبہ سے ہو اور اسے خدا کے حضور اسکا جوابدہ ہونا پڑے گا۔دعوۃ الی اللہ کا طریق دعوۃ الی اللہ کس طرح کرنی ہے۔اس ضمن میں حضور نے سورۃ النحل کی آیات اُدعُ الی سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ - - - الخ 288