دینی نصاب

by Other Authors

Page 289 of 377

دینی نصاب — Page 289

( سورة حم سجدہ آیات ۱۲۶ تا ۱۲۹) کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اُدْعُ إلى سَبِيلِ ربك كے الفاظ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر خدا کی طرف بلانا ہے تو اس طبعی جذ بہ سے بلاؤ کہ گویا تم نے خدا کو پالیا ہے اور اس سے تمہارا ذاتی تعلق قائم ہو چکا ہے۔پالینے والے کی آواز میں ایک یقین، ایک شوکت اور ایک کشش ہوتی ہے جیسے عید کا چاند دیکھ لینے والا دوسروں کو بڑے وثوق اور شوق سے چاند دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔خدائے تعالیٰ کو پائے بغیر آواز ایسی ہی کھوکھلی اور بے اثر رہتی ہے جیسے گڈریے کے لڑکے کی آواز تھی جو کہتا تھا کہ شیر آیا۔شیر آیا۔دوڑنا۔- پھر جو شخص خدا کو پالیتا ہے وہ دعوت الی اللہ کا پورا اہل ہوجاتا ہے۔اسے کسی ہتھیار کی ضرورت نہیں رہتی۔بعض لوگ تبلیغ کے معاملہ میں اپنی کم علمی کا عذر پیش کرتے ہیں۔یہ نفس کا دھوکا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو سب سے بڑے اور کامیاب داعی الی اللہ تھے وہ ظاہری علوم سے بالکل بے بہرہ تھے۔آپ کے اُمّی ہونے میں ایک یہ حکمت بھی تھی کہ کم علمی کے سوال کو باطل کیا جائے۔جو شخص خدا کو پالیتا ہے اسے دلائل خود بخود آ جاتے ہیں۔پس کتابوں کا سوال بعد میں پیدا ہوتا ہے۔اوّل اور اصل کام یہی ہے کہ خدائے تعالیٰ سے ذاتی طور پر مضبوط تعلق قائم کیا جائے۔کسی فرد نے خدا کو پالیا ہے یانہیں۔اس کا ثبوت اس کی گفتار اور کردار سے مل سکتا ہے۔جو شخص عمل صالح نہیں رکھتا۔گالی گلوچ سے پر ہیز نہیں کرتا۔دوسروں کے حقوق غصب کرتا ہے ظلم کرتا اور لین دین کے معاملات میں صاف نہیں وہ کس طرح کہ سکتا ہے کہ اس نے خدا کو پالیا ہے۔دعوت الی اللہ کے بارے میں دوسری بات یہ فرمائی کہ وہ بالحکمۃ ہونی چاہئیے۔حکمت کے بہت سے پہلو ہیں۔مثلاً ( موقعہ محل کے مطابق بات کی جائے (۲) گفتگو کے دوران سب سے مضبوط دلیل پہلے پیش کی جائے۔(۳) عمومی تبلیغ کے علاوہ بعض سنجیدہ اور مناسب افراد کو منتخب 289