دینی نصاب — Page 287
داعی الی اللہ بننے کی تحریک سید نا حضرت امیر المومنین خلیفہ المسح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹۸۳ ء کے آغاز میں ہی اپنے متعد د خطبات جمعہ میں جماعت کے دوستوں کو اس طرف توجہ دلائی کہ موجودہ زمانہ اس امر کا متقاضی ہے کہ ہر احمدی مرد، عورت، جوان، بوڑھا اور بچہ دعوت الی اللہ کے فریضہ کو ادا کرنے کیلئے میدان عمل میں اُتر آئے تا کہ وہ ذمہ داریاں کما حقہ ادا کی جاسکیں جو اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے کندھوں پر ڈالی ہیں۔تحریک کا پس منظر اس تحریک کا پس منظر بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ اس وقت ایسے مہلک ہتھیار ایجاد ہو چکے ہیں جن کے ذریعہ چند لمحوں میں وسیع علاقوں سے زندگی کے آثار تک مٹائے جاسکتے ہیں۔ایسے خطرناک دور میں جبکہ انسان کی تقدیر لا مذہبی طاقتوں کے ہاتھ میں جاچکی ہے اور زمانہ تیزی سے ہلاکتوں کی طرف جارہا ہے۔احمدیت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔احمدیت دنیا کو ہلاکتوں سے بچانے کا آخری ذریعہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔آخری ان معنوں میں کہ اگر یہ بھی ناکام ہو گیا تو دنیا نے لازم ہلاک ہو جانا ہے اور اگر کامیاب ہو جائے تو دنیا کو لمبے عرصہ تک اس قسم کی ہلاکتوں کا خوف دامنگیر نہیں رہے گا۔دعوت الی اللہ کے تقاضے داعی الی اللہ بننے کے کیا تقاضے ہیں اور وہ کس طرح پورے کئے جاسکتے ہیں۔اس بارے میں حضور نے سورۃ حم السجدہ کی آیت وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ مختلف مقاصد کی طرف بلانے والوں میں سے سب سے ( سورۃ حم سجده آیت ۳۴) 287