دینی نصاب

by Other Authors

Page 252 of 377

دینی نصاب — Page 252

اور حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنھم کی خلافت قائم ہوئی۔اس کے بعد آپ نے ملکاً عاضاً کا دور بیان فرمایا ہے جو گویا کاٹنے والا اور ظلم ڈھانے والا دور تھا۔یہ وہ دور تھا جس میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر گوشہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور خاندان نبوت کے کئی دوسرے مقدس افراد ظلم کا شکار ہو گئے۔اور اسی دور میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عالی مرتبہ نواسہ حضرت عبداللہ بن زبیر بھی شہید کئے گئے۔اور یہی وہ دور تھا جس میں حجاج بن یوسف کی تلوار نے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا۔اس کے بعد ملکاً جبریہ کا دور بیان فرمایا ہے۔یعنی ایسی بادشاہت جس میں سابق دور کی طرح انتہائی ظلم وستم کا رنگ تو نہ ہوگا مگر وہ اسلام کے جمہوری نظام پر قائم نہیں ہوگی بلکہ جبری رنگ کی حکومت ہوگی۔چنانچہ اسلام میں یہ جبری دور حکومت صدیوں تک چلتا رہا۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر دوبارہ خلافت علی منہاج النبوۃ“ کا دور قائم ہو جائے گا۔یعنی اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں میں سے کسی مقرب بندہ کو ظلی اور بروزی طور پر نبوت کے انعام سے نواز کر اس کے ذریعہ پھر سے خلافت راشدہ کا سلسلہ شروع فرمائے گا۔راوی بیان کرتے ہیں کہ اس قدر بیان فرمانے کے بعد ثُمَّ سَكت پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے یعنی اس خلافت علی منہاج نبوت کے دور میں پھر اسلام کو غلبہ نصیب ہوگا۔اور یہ آخری دور خلافت وہی ہے جو خدا کے فضل سے بانی جماعت احمد یہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت کے ساتھ شروع ہو چکا ہے۔چنانچہ حدیث کی مشہور کتاب مشکوۃ میں جہاں یہ حدیث نقل کی گئی ہے وہاں اس کے حاشیہ میں یہ الفاظ درج ہیں کہ الظَّاهِرُ أَنَّ الْمُرَادَ بِهِ زَمَنْ عِيسَى وَالْمَهْدِيُّ - 252