دینی نصاب

by Other Authors

Page 251 of 377

دینی نصاب — Page 251

فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَا جِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ ( مشکوۃ باب الانذار والتحذیر، مسند احمد جلد ۵ صفحه ۴۰۴) ترجمہ : حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں نبوت ( یعنی نبی کا وجود ) اُس وقت تک رہے گا جب تک خدا چاہے گا پھر اسے اللہ تعالیٰ اُٹھالے گا پھر ( نبی کے وصال کے معاً بعد ) خلافت طریق نبوت پر قائم ہو جائے گی۔جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا یہ خلافت قائم رہے گی پھر اسے بھی وہ اُٹھالے گا۔اس کے بعد کاٹنے والی ( یعنی لوگوں پر ظلم کرنے والی ) بادشاہت کا دور آئے گا جب تک خدا کا منشاء ہوگا یہ دور چلتا رہے گا پھر خدا اسے بھی اُٹھا دے گا اس کے بعد جبری حکومت کا دور آئے گا ( یعنی ایسی حکومت آئے گی جو جمہوریت کے اصول کے خلاف ہوگی ) پھر کچھ عرصہ بعد یہ دور بھی ختم ہو جائے گا۔اس کے بعد پھر دوبارہ خلافت کا دور آئے گا جو ابتدائی دور کی طرح نبوت کے طریق پر قائم ہو گا۔راوی کہتے ہیں ثُم سكت اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔یہ لطیف حدیث اسلام کی لہر دار تاریخ کا ایک دلچسپ اور مکمل خلاصہ پیش کر رہی ہے۔اور ہمارے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال حکمت سے ہر دور کا علیحدہ علیحدہ نقشہ کھینچنے کیلئے ایسے نادر الفاظ چنے ہیں جنہوں نے حقیقہ دریا کو کوزے میں بند کر کے رکھ دیا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے نبوت کا دور ہے جو گویا اس سارے نظام کا مرکزی نقطہ ہے۔اس کے بعد خلافت کا دور شروع ہو گا مگر خلافت سے مراد عام خلافت نہیں جس سے بعض اوقات جابر حکمرانوں کا نام بھی خلیفہ رکھ دیا جاتا ہے۔بلکہ وہ خلافت علی منھاج النبوت‘ مراد ہے۔چنانچہ ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر۔حضرت عمر 251