دینی نصاب — Page 253
یعنی یہ بات ظاہر ہے کہ اس دوسرے دور سے مراد مسیح اور مہدی کا زمانہ ہے۔( مشکوۃ طبع اصبح المطابع کراچی صفحه ۴۶۱) بانی جماعت احمد یہ علیہ السلام نے اپنے وصال سے کچھ عرصہ قبل اس نعمت خلافت کی بشارت دیتے ہوئے جماعت کو ان الفاظ میں تسلی دلا ئی تھی کہ :۔”سواے عزیز و! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالی دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلاوے سواب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی (یعنی اپنے وصال کی خبر سے۔ناقل ) عمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں۔کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اُس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اُس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گی جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجو د ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔سوتم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دُعا کرتے رہو اور چاہیے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دُعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہوا اور تمہیں 66 (الوصیت صفحه ۵-۶) دکھا دے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے۔اور چاہئیے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں۔خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ کیا ایشیا۔ان کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں 253