دینی معلومات — Page 80
حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس تحریک کو ساری دنیا تک وسیع کرنے کا اعلان فرمایا۔سوال: لجنہ اماء اللہ کی مختصر تاریخ بتائیں؟ جواب: سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے 15 دسمبر 1922ء کو یہ تنظیم قائم فرمائی۔حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کی خدمت میں ممبرات لجنہ اماءاللہ نے صدارت کیلئے درخواست کی۔چنانچہ پہلا اجلاس آپ کی صدارت میں شروع ہوا۔مگر دوران اجلاس آپ نے حضرت سیدہ ام ناصر ( حرم حضرت خلیفتہ المسیح الثانی) کو صدر نامزد فرمایا جو تقریباً 41-1940 ء تک صدر رہیں۔اس عرصہ میں حضرت سیدہ امتہ الحئی بیگم صاحبہ (حرم حضرت خلیفہ المسیح الثانی)، حضرت صالحہ بیگم صاحبہ (اہلیہ حضرت میر محمد اسحق صاحب)، حضرت سیده ساره بیگم صاحبہ (حرم حضرت خلیفہ المسیح الثانی) اور حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ (حرم حضرت خلیفتہ المسیح الثانی) نے جنرل سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیئے۔41-1940ء میں جب حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ نے لمبی بیماری کے باعث رخصت لی تو حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ صدر منتخب ہوئیں اور حضرت سیدہ اتم متین صاحبہ (حرم حضرت خلیفہ المسیح الثانی) جنرل سیکرٹری۔مارچ 1944ء میں حضرت سیدہ اتم طاہر صاحبہ کی وفات پر حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ دوبارہ صدر چنی گئیں اور آپ نے اپنی وفات 31 جولائی 1958 ء تک اس ذمہ داری کو نبھایا۔اگست 1958ء سے لجنہ اماءاللہ کی فرائض صدارت حضرت سیدہ مریم صدیقہ اتم متین صاحبہ کے سپر د ہوئے۔80