دینی معلومات — Page 41
سلوک کے باوجود لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ اذْهَبُوا فَانْتُمُ الطُّلَقَاءُ ( تم پر کسی قسم کی گرفت نہیں جاؤ تم سب آزاد ہو) کہتے ہوئے عفو عام کا اعلان فرمایا۔سوال: غزوہ تبوک کب ہوا اور اس کا دوسرا نام کیا ہے؟ جواب: یہ غزوہ 9 ہجری بمطابق 630ء میں ہوا۔اسے ”غزوۂ عسرہ “ بھی کہتے ہیں کیونکہ اس دور دراز کے سفر میں مسلمانوں کو بڑی صبر آزما تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔سوال: حجۃ الوداع سے کیا مراد ہے؟ جواب: 10 ہجری بمطابق مارچ 632ء میں آنحضرت صلی علی کم پر حج کے دوران آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِيناً (المائدہ 4) ( یعنی آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کیا ہے) نازل ہوئی آپ نے ایک تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جو بعد میں خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہوا۔اس میں آپ نے امت کو الوداع کہتے ہوئے معاشرتی اور تمدنی احکام کی اصولی تشریح فرمائی ہے۔آپ کی زندگی کا یہ آخری حج تھا۔سوال: ان چند صحابہ کے نام بتائیں جن کو وحی الہی کی کتابت کی سعادت نصیب ہوئی۔جواب: حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر بن العوام، حضرت ابی بن کعب اور حضرت زید بن ثابت۔(کتابت کرنے والوں کی کل تعداد تقریباً 40 تھی) 41