دیباچہ تفسیر القرآن — Page 55
ہو گئے کیونکہ ہر ایک نے انہیں اپنی اپنی بولی بولتے سنا اور سب حیران ہوئے اور تعجب کرکے آپس میں کہنے لگے دیکھو کیا یہ سب جو بولتے ہیں جلیلی نہیں! پس کیونکر ہم میں سے اپنے اپنے وطن کی بولی سنتا ہے۔ہم پار تھی اور میدی اور عیلامی اور رہنے والے مسوپوتا میہ، یہودیہ اور کپدکیہ۔نپطس اور آسیہ کے فروگیہ اور پمفولیہ۔مصر اور لیبیاکے اس حصہ کے جو قرینی کے علاقہ میں ہے اور رومی مسافر یہودی اور یہودی مرید۔کریتی اور عرب کے ہوکے ہم اپنی اپنی زبانوں میںانہیں خدا کی بڑی باتیں بولتے سنتے ہیں اور سب حیران ہوئے اور گھبرا کے ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ یہ کیا ہوا چاہتا ہے اَوروں نے ٹھٹھے سے کہا کہ یہ نئی مَے کے نشے میں ہیں ‘‘۔۷۱؎ اِس حوالہ سے ثابت ہے کہ اُس وقت تک فلسطین کے لوگوں کی زبان عبرا نی تھی اور غیرزبانوں کی بولیاں بولنا اُن کے لئے ایک غیر معمولی بات تھی۔جو نام اوپر گنائے گئے ہیں اِن میں صاف طو پر رومیوں کا ذکر آتا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اُس زمانہ میں رومی زبان فلسطین کی زبان نہیں تھی اور اس میں باتیں کرنا لوگوں کے لئے ایک اچنبھے کی بات تھی۔اس بات سے قطع نظر کر کے کہ یہ واقعہ کس حد تک صحیح ہے اس حوالہ سے اس بات کاتو یقینی طور پر ثبوت مل جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب کے واقعہ کے بعد بھی یہودیوں کی زبان عبرانی ہی تھی۔غیر زبانیں جاننے والے اُن میں بہت ہی کم پائے جاتے تھے۔حتیٰ کہ جب مسیح کے حواریوں نے بعض غیر زبانوں میںباتیں کیں جن میں رومی زبان بھی شامل تھی تو لوگوں نے اُن پر یہ الزام لگا دیا کہ وہ مَے کے نشہ میں بکواس کر رہے ہیں۔اگر سارے ملک کی زبان رومی یا یونانی ہوتی تو کس طرح ہو سکتا تھا کہ عوام الناس اِن زبانوں کو نہ سمجھ سکتے اور ان کی تقریروں کو بے معنی قرار دے کر انہیں شراب کے نشہ میں مخمور سمجھ لیتے۔مندرجہ بالا تمام دلائل سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اورآپ کے حواریوں کی زبان عبرانی تھی لاطینی یا یونانی نہیں تھی۔پس جو اناجیل یونانی یا لاطینی میں ہمارے سامنے پیش کی جاتی ہیں وہ یقینا حضرت مسیحؑ کے بہت عرصہ بعد لکھی گئی ہیں اور اُس زمانہ میں لکھی گئی ہیں جبکہ عیسائیت رومیوں میں پھیل گئی تھی بلکہ رومن شہنشاہیت دو ٹکڑے ہو کر