دیباچہ تفسیر القرآن — Page 56
اٹلی اور یونان کی حکومتوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔اِس قسم کی کتابیں جو سو یا دو سَو سال بعد غیر معلوم مصنفوں نے لکھی تھیں اور زبردستی حضرت مسیح اور ان کے حواریوں کی طرف منسوب کردی گئی تھیں اُن سے انسان کی روحانیت کو کیا فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ضرور تھا کہ ان کے ہوتے بھی نیا آسمانی صحیفہ نازل ہو جو اِس قسم کی خرابیوں سے پاک ہو اور انسان اِس یقین سے اس پر غور کر سکے کہ یہ پاک اور صاف کلام میرے پیدا کرنے والے کا تھا۔دوسری دلیل:انجیل میں حضرت مسیح ناصری صاف طور پر بیان فرماتے ہیں کہ میں پُرانی کتابوں کو منسوخ کرنے نہیں بلکہ قائم کرنے آیا ہوں۔چنانچہ متی میں لکھا ہے:۔’’ یہ خیال مت کرو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا ، میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں۔کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہو ں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیںا یک نقطہ یا ایک شوشہ تورات کا ہر گز نہ مٹے گا جب تک سب کچھ پور انہ ہو‘‘۔۷۲؎ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ناصری کا اصل کام یہودیوں کو دوبارہ موسوی مذہب پر قائم کرنا تھا،مگر انجیل کی موجودہ شکل ہمیں بتاتی ہے کہ موسوی شریعت اس کے ذریعہ سے بالکل منسوخ کر دی گئی ہے یہ امر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اناجیل درحقیقت وہ نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پیش کی تھیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم یقینا وہی ہو گی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام دنیا میں لائے تھے۔صرف ایسے امور جو فقیہوں اور فریسیوں نے موسوی شریعت میں اپنی طرف سے داخل کر کے اسے بگاڑ دیا تھا، مٹا دیئے گئے ہوں گے۔لیکن انجیل فقیہوں اور فریسیوں کے احکام کو نہیں مٹاتی بلکہ موسٰی ؑعلیہ السلام اور ان کے بعد آنے والے نبیوں کے احکام کو بھی مٹاتی ہے۔اس طرح اس کا ایک حصہ اس کے دوسرے حصہ کو باطل قرار دیتا ہے اور ظاہر ہے کہ جس کتاب کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو باطل قرار دے، وہ کتاب کسی ایک مصنف کی لکھی ہوئی نہیں ہو سکتی یا کسی معقول مصنف کی لکھی ہوئی نہیں ہو سکتی۔چونکہ کہا جاتا ہے کہ یہ کتابیں حضرت مسیح کے حواریوں کی لکھوائی ہوئی ہیں اس لئے یہ توکہنا مشکل ہے کہ ان کتابوں کے