دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 54

د۔یہودی قوم آئندہ کی حکومت کی امیدوار تھی، جو قومیں آئندہ کے متعلق امیدیں کھو بیٹھتی ہیں اُن کادل بھی کمزور ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ وہ اپنی زبان کی حفاظت سے بے پروا ہوجاتی ہیں۔لیکن حضرت مسیحؑ کے زمانہ میں تو یہودی یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ جلد یہودیوں کا بادشاہ ظاہر ہو گا اور وہ پھر دوبارہ یہودی حکومت قائم کرے گا۔پس یہ کس طرح ممکن ہو سکتاتھا کہ اُس زمانہ میں وہ اپنی زبان کو ترک کر دیتے۔ہ۔اُس زمانہ کے یہودی مصنّفوں کی کتابیں اصل یا بگڑی ہوئی یہودی زبان میں ہیں۔اگر ان لوگوں کی زبان بدل چکی تھی تو چاہئے تھا کہ اُس صدی یا اُس کے قریب کی لکھی ہوئی کتابیں اصل عبرانی یا بگڑی ہوئی عبرانی زبان کی بجائے کسی اور زبان میں ہوتیں۔و۔پرانی اناجیل کے نسخے یونانی زبان میں ملتے ہیں لیکن حضرت مسیحؑ کے وقت میں ابھی تک اطالوی شہنشاہیت دو ٹکڑوں میں تقسیم نہیں ہوئی تھی۔اس کا مرکز ابھی روم میں ہی تھا اور رومی زبان اور یونانی زبان میں بہت کچھ فرق ہے اگر اطالوی حکومت کا کوئی اثر یہودیوں کی قوم پر پڑا بھی تھا تو اس کے نتیجہ میں اطالوی الفاظ عبرانی میں داخل ہونے چاہئیں تھے نہ کہ یونانی۔لیکن اناجیل کے پرانے نسخے یونانی زبان میں پائے جاتے ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اناجیل اُس وقت لکھی گئیں جبکہ رومی ایمپائر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی تھی اور اس کے مشرقی مقبوضات یونانی ایمپائر کے حصہ میں آگئے تھے اور یونانی زبان نے بھی عیسائیت اور اس کے لٹریچر پر اثر انداز ہونا شروع کر دیا تھا۔ز۔جتنے فقرے اناجیل میں اپنی اصل شکل میں محفوظ ہیں وہ سب کے سب عبرانی زبان میں ہیں مثلاً ہوشعنا ۶۷؎ ایلی ایلی لما سبقتانی۶۸؎ رِبّی ۶۹؎ تلیشا قومی۷۰؎ ح۔اعمال باب ۲ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کے صلیب پر لٹکائے جانے کے بعد تک یہودی لوگ عبرانی زبان میں باتیں کرتے تھے۔چنانچہ لکھا ہے:ـ۔’’ تب وے سب روح مقدس سے بھر گئے اور غیر زبانیں جیسے روح نے انہیں بولنے کی قدرت بخشی بولنے لگے اور خد اترس یہودی ہر ایک قوم میں سے جو آسمان کے تلے ہے یروشلم میں آرہے ہیں۔سو جب یہ آواز آئی تو بھیڑ لگ گئی اور سب دَنگ