دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 51

سمجھ سکتا ہے کہ یہ باتیں یقینا موسٰی ؑ سے خدا تعالیٰ نے نہیں کہیں نہ موسٰی ؑ نے اپنی کتاب میں لکھی ہیں۔نبیوں کو چور اور بٹ مار کہنے والے یہودی علماء نے یہ باتیں اپنے گناہوں کو چھپانے کے لئے موسٰی ؑکے کلام میں داخل کردیں اور اس بات کو ضروری بنا دیا کہ پھر خدا تعالیٰ ایک کامل کتاب دنیا میں اُتارے جو اِس قسم کی بیہودہ اور لغو اورمفتریانہ باتوں سے پاک ہو اور وہ قرآن کریم ہے۔۲۔پیدائش باب ۱۹ آیت۰ ۳ تا ۳۵ میں لکھا ہے کہ: ’’ لوط اپنی دونوں بیٹیوں سمیت اپنے شہر سے نکل کر ایک غار میں رہنے لگا۔تب پلوٹھی نے چھوٹی سے کہا کہ ہمارا باپ بوڑھا ہے اور زمین پر کوئی مرد نہیں ہے جو تمام جہان کے دستور کے موافق ہمارے پاس اندر آوے۔آئو ہم اپنے باپ کومے پلاویں اور اس سے ہم بستر ہوویں تاکہ اپنے باپ سے نسل باقی رکھیں سو اُنہوں نے اُسی رات اپنے باپ کو مے پلائی اور پلوٹھی اندر گئی اور اپنے باپ سے ہم بستر ہوئی۔پر اُس نے لیٹتے اور اُٹھتے وقت اُسے نہ پہچانا اور دوسرے روز ایسا ہو اکہ پلوٹھی نے چھوٹی سے کہا کہ دیکھ کل رات میں اپنے باپ سے ہم بستر ہوئی آئو آج رات بھی اس کو مے پلاویں اور تُو بھی جا کر اُس سے ہم بستر ہو کہ ہم اپنے باپ سے نسل باقی رکھیں۔سو اُس رات بھی اُنہوں نے اپنے باپ کو مے پلائی اور چھوٹی اُٹھ کے اُس سے ہم بستر ہوئی اور اس نے اُٹھتے اور بیٹھے وقت اُسے نہ پہچانا‘‘۔کیا یہ تعلیم واقعہ کے لحاظ سے ممکن اور اخلاق کے لحاظ سے قابل برداشت ہے؟ مگر تورات خدا تعالیٰ کے ایک نبی کی نسبت ایسی کہانی بیان کرنے سے دریغ نہیں کرتی۔لیکن تورات سے مراد اِس جگہ وہ تورات نہیں جو خدا نے موسٰی ؑپر نازل کی تھی بلکہ یہ وہ تورات ہے جو بنی اسرائیل کے علماء نے اُس وقت لکھی جب اُنہیں حضرت لوط کی حقیقی یا نام نہاد اولاد مو آب یا بنی عمون سے اختلاف پیدا ہو گیا تھا اور بنی اسرائیل کا ایمان اتنا کمزور ہو چکا تھا اور دل اتنے سخت ہو چکے تھے کہ اُنہوں نے موآب اور بنی عمون کو ملعون کرنے کے لئے خد ا کے نبی حضرت لوطؑ پر حملہ کیا اور خد اکی کتاب میں ایسی گندی باتیں لکھیں جن کو خدا تعالیٰ کے نبیوں کی نسبت کوئی شخص سننے کے