دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 50

افسانہ میں مذکورہوتی تو یہ اس کا ٹھیک مقالہ ہوتا۔مگر خدا کے کلام میں ایسی باتوں کا کیا دخل۔قرآن کریم نے کس صفائی کے ساتھ حقیقت کو بیان کر دیا ہے فرماتا ہے کَانَتْ مِنَ الْغٰبِریْنَ۔۶۲؎ لوط کی بیوی کھمبا ومبا کوئی نہیں بنی بلکہ اس نے لوط کے ساتھ جانا پسند نہ کیا کیونکہ وہ خدا کی محبت پر اپنے رشتہ داروں کی محبت کو ترجیح دیتی تھی۔غرض ایسی بیسیوں باتیں ہیں جو ہیں تو موسٰی ؑکے زمانہ کی لیکن تورات اِن کو غلط بیان کرتی ہے۔مگر قرآن کریم نے دو ہزارسال کے بعد آکر اُن کی اصلاح کی ہے اور ایسی اصلاح کی ہے کہ عقل سلیم اُن کی سچائی تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔بائبل کی خلافِ اخلاق باتیں پھر بائبل میں بعض ایسی خلافِ اخلاق باتیں بھی درج ہیں جن کی نسبت کوئی یہ یقین نہیں کر سکتا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کہی گئی ہوں یا خدا کے نبیوں نے ایسا کام کیا ہو گا۔۱۔پیدائش باب ۹ میں لکھا ہے کہ نوح ؑنے انگور کا ایک باغ لگایا اُس کی مے پی کر نشہ میں آیا اور اپنے ڈیرے کے اندر اپنے آپ کو ننگا کیا اور اس کے بیٹے حام نے اُس کی عریانی کا تماشہ دیکھا اور پھر جا کے اپنے بھائیوںکو خبر دی۔۶۳؎ کیا کوئی عقل مند آدمی اس بات کو باور کر سکتا ہے کہ وہ نوح جس کی نسبت آتا ہے:۔’’ نوح اپنے قرنوں میںصادق اور کامل تھا اورنوح خدا کے ساتھ چلتا تھا‘‘۔۶۴؎ وہ ننگا ہو کر اپنے بچوں کے سامنے آجائے گا؟ اور کیا یہ بات کوئی عقلمند انسان مان سکتا ہے کہ نوح ننگا ہو اوربُرا بھلاحام کو کہا جائے؟ ایک ننگے پر نظر ڈالنے والا انسان آخر اُس کو ننگا نہیں تو اور کیا دیکھے گا۔پس حام کا اس میں کیا قصور تھا کہ اُس نے نشہ سے چور اپنے باپ کو دیکھ لیا۔مگر بائبل کہتی ہے کہ نوح نے کہا:۔’’ کنعان ملعون ہو‘‘ ۶۵؎ حالانکہ کنعان کا کوئی بھی قصور نہ تھا۔دیکھنے والا کنعان کا باپ حام تھا۔حام کے خلاف تو نوح نے ایک لفظ بھی نہیں کہا مگر کنعان پر لعنت کر دی جس کا کوئی قصور نہ تھا۔کیا اس لئے کہ حام اُس کا بیٹا تھا اور کنعان اُس کا پوتا تھا؟ پس اِس قسم کے اعمال نہایت ہی اخلاق سوز ہیں اور خدا تعالیٰ کے ایک نبی کی طرف ایسی باتیں منسوب کرنا نہایت ہی شرمناک امر ہے۔ہر عقلمند